ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے نظم و ضبط پرعمل درآمد کے مطالبے پر سوالیہ کا نشان لگایا

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کیجانب سے بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی عوام کیجانب سے نظم و ضبط پر عمل درآمد کرنے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبے کو تسلیم نہ کرنے پر سوالیہ کا نشان لگایا۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے آج بروز اتوار کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت جو عالمی نظم و ضبط اور بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی کے عادی ہوگئی ہے، وہ امریکی عوام سے نظم و ضبط  کے نفاذ پر یقین کی توقع کیسے کرسکتی ہے؟

موسوی نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے اپنے آپ کو "قانون اور نظم و ضبط پر عمل درآمد کرنے والے صدر" قرار دے کر امریکی مظاہروں کو روکنے کیلئے ہزاروں مسلح فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مختلف شہروں میں تعینات کی دہمکی دی تھی۔

ٹرمپ نے اپنے اس فیصلے کی وجہ کو اندرونی بدامنی کی روک تھام میں امریکی عہدیداروں کی ناکامی قرار دے دیا۔

ٹرمپ نے خود کو قانونی مظاہرین کا حلیف کہا اور امریکہ میں تشدد اور لوٹ مار کا الزام "انارکیسٹ" کیخلاف لگایا۔

امریکی صدر کے اس طرح کے بیانات ایک ایسے وقت سامنے آگئے جب حالیہ دنوں میں امریکی نیشنل گارڈ نے وائٹ ہاوس کے اندرہی سے نسل پرستی کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں کیخلاف پلاسٹک کی گولیاں، دستی بم اور آنسو گیس فائر کیں تھیں۔

تفصیلات کے مطابق سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کے قتل کے بعد اب دنیا بھر میں نسل پرستی کیخلاف ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 3 =