13 جون، 2020 4:55 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83820345
0 Persons
ایران میں کیپسول ہوٹل کی نقاب کشائی کی گئی

تہران، ارنا- ایران میں کیپسول ہوٹلوں کے ابتدائی نمونے کی نقاب کشائی کی گئی جس کی تقریب میں ایرانی وزیر برائے ثقافتی ورثے، دستکاری صنعت اور سیاحتی امور نے حصہ لیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق، ان جیسے کیپسول ہوٹلوں کا ایران میں پہلی بار کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور آج بروز ہفتے مطابق 13 جون کو وزیر برائے ثقافتی ورثے، دستکاری صنعت اور سیاحتی امور "علی اصغر مونسان" کی موجوگی سے ان کی نقاب کشائی کی گئی۔

کیپسول ہوٹلوں کا سیاحت اور کار ریسنگ کے مرکز کے زیر اہتمام میں ایران میں داخل کیا گیا ہے اور اسی مرکز کی نگرانی میں بھی ملک کے مختلف صوبوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

علی اصغر مونسان نے منعقدہ اس تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی خبر ہے اور یہ کیپسول ہوٹلز سیاحت کے میدان میں رہائش کی نئی شکل کے طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہائش کے ان مقامات کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے ماحولیاتی کیمپوں میں تبدیلی آئے گی اور مناسب اور سستی رہائش گاہ کی حیثیت سے یہ سیاحوں کو مختلف کیمپوں، ہوائی اڈوں، مسافروں کے ٹرمینلز، ریلوے وغیرہ جیسے مقامات پر مہیا کی جاسکتی ہے۔

اس موقع پر سیاحتی اور دستکاری صنعت کے ڈائریکٹراور کار ریسنگ کے سربراہ "ہادی سجادی راد" نے بھی پہلے مرحلے میں 200 کیپسول ہوٹلوں کا مختلف شہروں بشمول تہران، مشہد، اصفہان، شیراز، اور تبریز میں استعمال کیا جاتا ہے اور جو سیاحوں کیلئے قلیل مدتی قیام کے طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جاپان میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہاں رواج پانے والے "کیپسول ہوٹلوں" کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ آپ کا کمرہ محظ ایک سوراخ کے اندر کیپسول نما بستر ہوتا ہے، سستا کرایہ ان کی اصل کشش ہے۔

40 سال قبل کیپسول ہوٹلوں کا مستقبل تاریک نظر آتا تھا لیکن حالیہ برسوں میں یہ دوبارہ توجہ حاصل کر رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر اندرون ملک سیاح کم خرچ کی وجہ سے ان کو ترجیح دیتے ہیں۔

بک اینڈ بیڈ کی طرح ہی فرسٹ کیبن اپنے عناصر کیپسول ہوٹل سے حاصل کرتے ہیں؛ یہ پہلی بار اوساکا میں سنہ 1970 کی دہائی میں متعارف کرائے گئے تھے۔ اس میں انتہائی ضروری آپشنز تھے جس میں دیوار میں ایک جسم کی سائز کے درجنوں چیمبر بنے تھے۔

یہ بنیادی طور پر ان تاجروں کے لیے تھے جن کی گھر جانے کی آخری ٹرین چھوٹ جاتی تھی اور انھیں رات کو سونے کے لیے سستی جگہ کی ضرورت ہوتی تھی لیکن بعد میں اس کی مختلف قسم کے گاہک متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ یہ دوسرے ممالک میں بھی پھیل گيا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 8 =