ڈونلڈ ٹرمپ؛ 42 مہینوں کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی پامالی

تہران، ارنا- ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ اقدامات اور یکے بعد دیگرے بین الاقوامی معاہدوں بشمول ایران جوہری معاہدے، پیریس ماحولیاتی معاہدے، عالمی ادارہ صحت اور یونیسکو سے علیحدگی اور اب بھی عالمی عدالت انصاف کیخلاف دھمکیاں دینا، 42 مہینوں کے دوران، وائٹ ہاوس کے نئے کرایہ دار کیجانب سے بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا واضح ثبوت ہے۔

بین الاقوامی نظام کے ان تمام قواعد و ضوابط کے باوجود جو کئی سالوں سے موجود ہیں اور بین الاقوامی برادری کے تمام ممبروں کو ان پر عمل کرنا لازمی ہے لیکن واشنگٹن ہمیشہ عالمی قواعد و  ضوابط پر عمل کرنے سے گریزان ہے اور وہ ہمیشہ بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈال کر اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرکے اپنے مطالبات اور مفادات مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا سابقہ ​​امریکی حکومتوں کے مقابلے میں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے کا سب سے بڑا کارنامہ ہے اور وائٹ ہاوس کے نئے کرایہ دار کے صدرات کے عہدے کے آخری مہینوں کے دوران بھی ان کیجانب سے مزید بین الاقوامی معاہدوں کیخلاف ورزی کوئی دور کی بات نہیں ہے۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے علاوہ، ڈونلڈ ٹرمپ آج کے دور میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔

نسل پرستی اور نسلی امتیاز کو فروغ دینا، رنگین لوگوں کے حقوق کو نظرانداز کرنا اور یمن، شام اور عراق میں انسانیت کیخلاف جرائم کی بالواسطہ اور بلا واسطہ حمایت؛ امریکی صدر کیجانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی کے دیگر پہلو ہیں۔

عالمی ثقافتی ادارہ یونیسکو اور عالمی ادارہ صحت سے امریکی یکطرفہ علیحدگی اور عالمی عدالت انصاف کیخلاف دھمکیاں دینا، یہ سب بین الاقوامی مسائل کو حل کرنے سے متعلق حکومتوں کے گئے عالمی وعدوں کیخلاف ورزی ہے۔  

امریکہ ایک ایسے وقت یکے بعد دیگرے بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے علیحدہ ہو رہا ہے اور عالمی امن اور اتحاد میں خلل ڈال رہا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیف "تیجانی محمد" نے اقوام متحدہ کے نئے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے مصائب اور مشکلات بشمول عالمیگر وبا کرونا وائرس کیخلاف لڑنے کا بہترین طریقہ عالمی یکجہتی ہے اور ہم تمام اقوام کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی کے اصولوں کے عمل پیرا ہونے پر اپنی توجہ مرکوز کردیتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 10 =