ایران کی اقوام متحد کے کے سکریٹریٹ کے حالیہ الزامات کی تردید

تہران، ارنا – ایرانی محکمہ خارجہ نے اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ کے حالیہ الزامات کی تردید کرتے ہوئے سیاسی مقاصد کے لئے اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ کو آلہ  آلہ کار طور پر استعمال کرنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے جاری کردہ ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ کے حالیہ دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ امریکی اور سعودی حکومتوں کے سیاسی دباؤ میں ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی غیر معمولی تشریح کے بعد جوہری معاہدے پر امریکہ اور یورپی ممالک کی خلاف ورزی کے حوالے سے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی ہے اور یہاں تک کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے ساتھ بھی انتہائی رواداری اور نرمی کے ساتھ کام کیا ہے لیکن سیکرٹیرٹ ایک ایسے مضمون میں داخل ہوتا ہے جس میں اس کی کوئی صوابدید نہیں اور نام نہاد خصوصی رپورٹ بھی تیار کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سکریٹریٹ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی میں غیر قانونی توسیع کے لئے ایک خطرناک قرار داد تیار کرنے پر کام کر رہا ہے، اور اس مسودے کے مندرجات کو امریکہ نے اپنے سرکاری اعلان سے دو ہفتہ قبل استعمال کیا ہے، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ امریکہ کی درخواست پر تیار کی گئی ہے تاکہ ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں استعمال ہوئے۔

حکومتوں پر خود ساختہ عمل اور صوابدیدی قوانین کا الزام لگانا ایک خطرناک بدعت ہے جو عالمی برادری کی توثیق نہیں ہوتی ہے۔ اس طرح کے تخصیص کردہ عمل سے اقوام متحدہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔

سیاسی وجوہات کی بناء پر رپورٹ کی تیاری حقائق کو تبدیل نہیں کرتا ہے اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال امریکہ اور بچوں کے قاتل کی سعودی حکومت کی غلط پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔

یہ کیسا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مہلک ہتھیاروں جو یمن کے بے دفاع لوگوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے، کی فروخت پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جبکہ امریکہ بے بنیاد الزامات کے ثبوت  ملنے کے لیے تحقیقی ٹیمیں سعودی عرب کے کچرے کی تلاش کے لئے بھیجی جارہی ہیں۔ بے شک ایسی رپورٹیں نہ صرف خطے کی سلامتی اور سیکورٹی اور سلامتی کونسل کی کی قراردادوں کے نفاذ میں معاون ثابت  نہیں ہوں گی بلکہ اقوام متحدہ کی ساکھ کو تباہ کریں گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران ، اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ کو سختی سے مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایرانی اسلحے کی پابندیوں کی منسوخی کے روکنے کے لئے پہلے سے طے شدہ امریکی منظرنامے کی حمایت نہ کرے اور ایسے خطرناک عمل کی مدد نہیں کرے جن کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 5 =