امریکی سماج عوام کیخلاف ناانصافی سے بھرا پڑا ہے: پاکستانی پروفیسر

اسلام آباد، ارنا- پاکستان کی قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا ہے کہ امریکہ میں نسل پرستی  ایک پرانی روایت ہے جو جورج فلویڈ کے قتل سے اور بے نقاب ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج، امریکی سماج عوام کیخلاف بے انصافی سے بھرا پڑا ہے جسے اس ملک کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں میں صاف نظر آتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار قائد اعظم یورنیورسٹی کے پروفیسر برائے سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کے امور ڈاکٹر "قندیل عباس" نے بدھ کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ امریکی ہمیشہ سے دنیا کے دوسرے ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں فکر مند رہنے کا دعوے دار ہے لیکن اسے سڑکوں پر بغیر کھانے کے رہنے والے بھوکے لوگوں کی حالت زار پر توجہ دینے اور ان کا خیال رکھنے کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہے۔

 قندیل عباس نے اس بات پر زور دیا کہ اب دنیا جورج فلویڈ کی صورتحال سے ملتی جلتی ہے؛ جس طرح وہ گورے امریکی پولیس کے گھٹنوں تلے جاں بحق ہوئے؛ آج عالمی برادری امریکی غیر انسانی حرکتوں کے گھٹنوں تلے ہے اور وہ یکجا آواز بلند کرتے ہیں کہ ہم سانس نہیں لے سکتے۔

پاکستانی سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ امریکی حکام کے نا انصافی پر مبنی رویے کو اس ملک کی بیرونی اور اندرونی پالیسیوں میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں؛ انہوں نے بغیر کسی وجہ کے افغانستان، عراق اور شام پر حملہ کیا اور ان کو شکست اور ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا بنیادی مسئلہ امریکی معاشرے میں عوامی کیخلاف ناانصافی ہے؛ امریکی حکومت دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ امریکہ کا ایک مثالی معاشرہ ہے جبکہ یہ ایک مکمل طور پر غلط فہمی ہے۔

 قندیل عباس نے امریکی سیہ فام شہری جورج فلویڈ کے قتل کو ایک بہت سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلویڈ کے قتل نے امریکہ میں ناانصافی اور نسل پرستی کے حقیقی روپ کا بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ بہت بڑی افسوس کی بات ہے کہ بین الاقوامی میڈیا، خاص طور پر امریکی میڈیا، امریکی معاشرے میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق میں بات نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ امریکی حکومت کے دباؤ اور کنٹرول میں ہیں۔

قندیل عباس نے کہا کہ امریکہ کا اپنے ملک کے اندر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں انسانی حقوق کیخلاف اقدامات کا ایک سیاہ کارنامہ ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ معاشرے میں امریکی عوام کی سوچ کو بدلنا ہے؛ تاہم پوری تاریخ میں امتیازی سلوک کے خاتمے کی کوششوں کے باوجود امریکہ میں یہ مسئلہ ابھی بغیر کسی حل کے بجائے خود باقی ہے۔
 

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =