ایرانی سینٹرل بینگ کی ایران کو کرنسی کے ذخائر تک رسائی میں جنوبی کوریا کی رکاوٹ پر تنقید

تہران، ارنا – ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ نے زرمبادلہ کے وسائل تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کیلیے جنوبی کوریا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہےکہ اگر کورین بینکیں ہمارے ساتھ اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل نہ کریں تو ہمیں بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا حق ہے۔" .

یہ بات عبد الناصر ہمتی نے آج بروز بدھ بلوم برگ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ایران کو جنوبی کوریا میں موجود کرنسی کے ذخائر تک رسائی کے راستے میں روڑے اٹکانے کیلیے اس ملک کی مذمت کرتے ہوئے ملک کی غیر تیل برآمدات اور ایرانی معیشت پر پابندیوں اور کرونا کے اثر و رسوخ پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا  غیر قانونی طور پر جنوبی کوریا کی بینکوں میں منجمد ہونے والی ایرانی کرنسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کرنسیوں سے خوراک اور طبی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کریں جو  واضح طور پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان "سید عباس موسوی" نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ جنوبی کوریا میں ایران کی سات ارب ڈالر رقم بلاک کردی گئی ہے جسے ایران واپس کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اگر کورین بینکیں ہمارے ساتھ اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل نہ کریں تو ہم بھی بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی کارروائی کریں گے۔

سنٹرل بینک کے چیف نے کہا کہ امریکہ کا معاشی اور سیاسی دباؤ ڈال کر ایران کو کچلنے کا ارادہ تھا لیکن کامیاب نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی نان آئل مصنوعات کی برآمدات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو رہی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 2 =