' گلے اور گھٹنے پر ڈباو' امریکی کی پرانی پالیسی ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ' گلے اور گھٹنے پر ڈباو' امریکی کی پرانی پالیسی ہے۔

یہ بات حسن روحانی نے آج بروز بدھ اپنی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بے شرمی سے امریکی پولیس کے ذریعے سیاہ فام شخص کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 'گلے اور گھٹنے پر ڈباو' امریکی کی دیرینہ پالیسی ہے۔

روحانی نے مزید کہا کہ امریکی پوری تاریخ میں جب کسی مظلوم شخص کو پاتے ہیں اس کے مارنے کیلیے اس شخص کے گلے پر گھٹنے ٹیکتے ہیں، البتہ اس اقدام کا تعلق صرف پولیس سے نہیں بلکہ یہ امریکہ کی اصولی پالیسی ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ ایران کی عظیم قوم نے امریکہ کے گھٹنے کو توڑ دیا۔ 1997 میں امریکہ اپنے دباؤ کے ساتھ ایرانی قوم کے اتحاد اور یکجھتی کو درہم برہم کرنا چاہتا تھا لیکن ایرانی عوام نے اتحاد کے ذریعہ امریکہ کو شکست دےدی اور اب امریکہ کے پاس کوئی گھٹنے نہیں ہے۔

صدر نے کہا کہ آج تک، کرونا وائرس سے لڑنے میں امریکہ دنیا کا سب سے بدترین ملک رہا ہے جس نے کورونا وائرس سے لڑنے کی حکومت کی ہے، امریکی حکومت نے کرونا کی روک تھام کیلیے بدترین طریقے کا انتخاب کیا ہے اور اس راستے میں بہت سے امریکی شہری جاں بحق ہوگئیں۔ ٹرمپ نے یہ ظاہر کیا کہ ان کے پاس ملک کے چلانے کیلیے ضروری انتظام نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دباؤ کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے اب بھی ایک سازش پر عمل پیرا ہیں چونکہ ایران آنے والے ہفتوں میں اور اکتوبر میں ایک مرحلے پر پہنچ جائے گا کہ قرارداد 2231 کے تحت ایرانی اسلحے پر تمام پابندیاں ختم کردی جائیں گی اسی لیے وہ اب سے ایرانی دفاعی تاریخ کا اس دن کے لیے ناراض ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ ایک مسودہ تیار کرنے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روحانی نے مزید بتایا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے چار مستقل ممبران دنیا کے مفادات اور استحکام کے لئے امریکیوں کی اس سازش کا مقابلہ کریں، ہم ان سے اور خاص طور پر ہمارے دو دوست ممالک (روس اور چین) توقع کرتے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے میں خطے اور دنیا کے مفادات کے لئے امریکی سازش کا مقابلہ کریں۔

روحانی نے کہا کہ امریکہ جان اور سمجھ لیں کہ ایران ہر حالت میں اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کرے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =