امریکہ کو ایران کے اعتماد کی واپسی کیلئے تباہ ہونے والی ہر چیز کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا: حکومتی ترجمان

تہران، ارنا – ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ جانتا ہے کہ ایران کے ساتھ سازگار حالات اور کامیاب سفارت کاری کے حصول کے لئے کیا کرنے کی ضرورت ہے اور مذاکرات کی اخلاص اور سنجیدگی پر ہمارا اعتماد ختم ہو گیا ہے لہذا امریکہ کو اس کی اصلاح کے لئے تباہ ہونے والی ہر چیز کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔

یہ بات "علی ربیعی" نے پیر کے روز اپنی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کے تبادلے کو ایک اہم قدم قرار دے دیا۔
ربیعی نے امریکی مذاکرات کی تجویز پر ایران کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور امریکی صدارتی انتخابات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے ، ہم ملک کے اندرونی معاملات پر توجہ دیتے ہیں۔
ربیعی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر کے بیانات سے وفاداری کا کوئی نشان نہیں ہے، جیسا کہ ہم نے بار بار کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ جے سی پی او اے میں شریک ممالک کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آسکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خود بھی مذاکرات کی میز چھوڑ دیتا ہے۔
ایرانی حکومت کے ترجمان نے مذاکرات کے لئے ٹرمپ کی دعوت اور معاہدے کو ایک سیاسی اشارہ قرار دیا ہے۔
ایرانی حکومتی ترجمان نے کہا کہ امریکہ بخوبی واقف ہے کہ اطمینان بخش صورتحال اور ایران کے ساتھ کسی بھی کامیاب سفارت کاری کے حصول کے لئے انہیں کیا کرنا چاہئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 3 =