قیدیوں کے تبادلہ پر تیار ہیں: ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ میں زیر حراست ایرانی شہریوں کی رہائی کیلئے ملک میں قائم سوئس سفارتخانے کے اقدامات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیدیوں کے تبادلہ کا امکان ہو تو ہم امریکہ میں قید اپنے دیگر ہم وطنوں کی رہائی کیلئے تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے آج بروز ہفتے کو ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں ایران میں امریکی قیدی "مائیکل وائٹ" کی رہائی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیجانب سے ایران سے مذاکرات پر تیاری کے دعوی کے رد عمل میں کہا کہ امریکہ کے اندرونی معاملات ایران کیلئے اتنے اہم نہیں ہیں۔

موسوی نے کہا کہ وہ جو اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے اہم ہے امریکی مختلف حکومتوں کے اقدامات ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ حالیہ برسوں میں اور ماضی میں بھی ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں دیکھا جس سے ایرانی عوام اور حکومت کا اعتماد حاصل ہو۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ابھی بھی ایران اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد کا دیوار کھڑا ہوا ہے۔

موسوی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اپنے اندرونی مسائل ہیں اور الیکشن بھی امریکی اندرونی معاملات  کا حصہ ہے؛ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی امریکی اندرونی تبدیلیوں سمیت اس ملک کے صدراتی الیکشن کے نتایج کا انتظار نہیں کیا ہے اور نہ ہی کرے گا۔

ایران کیلئے گویائی کا علاج (Speech Therapy) کی کوئی اہمیت نہیں ہے

موسوی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کی میز کو نہیں چھوڑدیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران 1+5 گروپ کے فریم ورک کے اندر مذاکرات کے تحت دوسرے فریقین سے رابطے میں ہے لیکن امریکہ نے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی سے مذاکرات کی میز کو چھوڑ دیتے ہوئے جوہری معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 سے اپنے کیے گئے وعدوں کیخلاف ورزی کی ہے۔

موسوی کا کہنا ہے کہ ہمارا یقین ہے کہ ٹرمپ کے بر سر اقتدار ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گویائی کا علاج کی ایران کیلئے کوئی اہمیت نہیں ہے وہ جو ہمارے لیئے اہم ہے یہ ہے کہ امریکہ اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرے جو ابھی تک ایسا ہی نہیں کیا ہے۔

 اگر امریکہ توبہ کرے تو وہ جوہری معاہدے میں واپس آ سکتا ہے

موسوی نے کہا کہ اگر امریکہ ایرانی قوم کیخلاف پہنچے گئے نقصانات کا ازالہ کرے اور ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھالے اور پھر توبہ کرے تو وہ گروہ 1+5 کے فریم ورک کے اندر جوہری معاہدے میں واپس آسکتا ہے۔

انہوں نے ایرانی اور امریکی قیدیوں کے حالیہ تبادلہ سے متعلق کہا کہ وہ اس اقدام کا انسانی پہلو کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

موسوی نے کہا کہ امریکہ نے چند ایرانی شہریوں کو بے بنیاد وجوہات کی بنا پر غیرقانونی طور پر اغوا کیا ہے اور ان کیخلاف ایران مخالف امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور دوسری طرف تو ایران کیخلاف امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلہ کیلئے براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے ہیں

موسوی نے کہا کہ ایرانی حکومت نے قید میں اپنے شہریوں کی رہائی کی پوری کوشش کی ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے تعاون کی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا وہ سوئٹزرلینڈ نے بحثیت امریکی مفادات کے محافظ کے، مذاکرات کی ذمہ داری کو نبھایا اور ایران اور امریکہ درمیان براہ راست مذاکرہ نہیں ہوئے ہیں۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر قیدیوں کے تبادلہ کا امکان ہو تو ہم امریکہ میں قید اپنے دیگر ہم وطنوں کی رہائی کیلئے تیار ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =