ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی امریکی اور ایرانی قیدیوں کی رہائی سے متعلق وضاحتیں

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایران میں امریکی قیدی "مائیکل ری وائٹ" اور امریکی جیل میں قید ایرانی شہری "مجید طاہری" کی رہائی سے متعلق وضاحتیں پیش کیں۔

سید "عباس موسوی" نے کہا کہ امریکی قیدی مائیکل ری وائٹ جنہیں سیکیورٹی الزامات اور نجی مدعیوں کی شکایت کی وجہ سے جیل میں سزا سنائی گئی تھی، کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ کے نجی مدعی کے مادی اور روحانی رضامندی سمیت ان کے دیگر جرائم کو اسلامی مغفرت کے تحت معاف کیا گیا اور اس کی سزا کا ایک حصہ گزرنے اور انسانی حقوق کے تحفظات پر غور کرتے ہوئے آج بروز جمعرات مطابق 6 جون کو ان کو جج کے فیصلے کیساتھ رہا کرکے اپنی وطن واپس بھیجا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کرونا وائرس پھیلاؤ کے بعد امریکی قیدی وائٹ کو ایرانی عدلیہ کے سربراہ کی ہدایت سے جیل سے چھٹی دی گئی تھی اور انہیں ایران میں رشتہ داروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے امریکی حکومت کے مفادات کے نگہبان کے طور پر ایران میں قائم سوئس سفارتخانے کی درخواست پر ان کا حوالہ کردیا گیا۔

موسوی نے کہا کہ امریکی قیدی کا کرونا وائرس کی کچھ مشکوک علامات کے ظاہر ہونے کی وجہ سے مکمل طبی نگرانی سےعلاج کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی تھا، اس کی رہائی کا حکم جاری کردیا کردیا گیا۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکی قیدی کی رہائی کیساتھ، بے بنیاد وجوہات کی بنا پر امریکی جیلوں میں قید ایرانی سائنسدان "مجید طاہری" کی رہائی کا حکم جاری کیا گیا۔

انہوں نے اس حوالے سے ایرانی عدلیہ، وزارت انٹلیجنس اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹریٹ کے علاوہ تہران میں قائم سوئس سفارتخانے سے وائٹ اور طاہری کی آزادی کا بند و بست کرنے میں تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی جیل سے مجید طاہری کی رہائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل تمام قیدیوں کیساتھ ہوسکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ یا کہ اس کی ایما پر دوسرے ملکوں میں گرفتار کیے گئے تمام ایرانی قیدیوں کو وطن واپس لوٹنا ہوگا۔

واضح رہے کہ مجید طاہری ایک ایرانی ڈاکٹر ہیں جو 33 سالوں کیلئے امریکہ میں مقیم ہیں اور  ریاست فلوریڈا میں کام کر رہے ہیں؛ امریکی حکومت نے اس پر ایران کیخلاف عائد پابندیوں کا بائی پاس کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور وہ تقریبا 16 مہینوں کے دوران زیر حراست تھے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =