بیروت کے حالیہ اجلاس میں امام خمینی (رہ) کے خیالات اور نظریات کا جائزہ

تہران، ارنا- دارالحکومت بیروت میں "سورج کے زائرین سے ملاقات" کے عنوان کے تحت منعقدہ ورچوئل اجلاس میں حصہ لینے والے علمائے کرام، محققین اور اشرفیہ نے امام خمینی (رہ) کے نظریات اور خیالات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے لبنان میں قابض امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کیخلاف کاروائی میں بانی اسلامی انقلاب کے کردار کا جائزہ بھی لیا۔

تفصیلات کے مطابق اس اجلاس کا لبنان میں قائم ایرانی خانہ فرہنگ کے زیر اہتمام میں حضرت امام خمینی (رہ) کی 31 ویں برسی کی مناسبت سے انعقاد کیا گیا۔

منعقدہ اس اجلاس کے اراکین نے مذہبی یکجہتی، عالم اسلام کے نئے مسائل کی شناخت، دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل کی طرف توجہ اور حساسیت اور قرآن و اہل بیت کی اطاعت کو امام خمینی (رہ) کی خصوصیات میں سے چند قرار دے دیا۔

اس موقع پر بیروت میں تعنیات ایرانی قونصلر "عباس خامہ یار" نے امام خمینی (رہ) کی شخصیت کی صوفیانہ جہتوں اور ان سے ملنے کیلئے عالم اسلام کے متعدد ثقافتی، سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کے دلچسبی کا جائزہ لیا۔

اس کے علاوہ مذہبی رہنما اور امام خمینی (رہ) کے دیرینہ ساتھی "محمد حسن رحیمیان" نے اللہ رب العزت پر ایمان، معاد پر یقین، اور قرآن پاک کے اصولوں پر عمل پیراہونے کو امام خمینی کے خصوصیات میں سے چند قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آپ اسلامی انقلاب کی قیادت سمیت بدستور نفس کو پاک کرنے اور اللہ کی عبادت کی راہ پر گامزن تھے۔

لبنانی تحریک امل کے رکن "خلیل حمدان" نے بھی کہا کہ عالمی سامراج دنیائے اسلام اور عرب ممالک کی تمام تحریکوں کے سربراہوں اور رہنماوں کا تعاقب کرر رہے تھے اور امام خمینی (رہ)، امام موسی صدر اور شہید محمد باقر صدر بھی ان جیسے بڑے رہنما کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =