وہ عظیم لیڈر جنہوں نے اسلام کی جان میں نئی روح پھونک دی

تہران، ارنا- بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی (رہ) نے اسلامی حکومت سے رہبانیت کی فکر کو ختم کیا کہ جو سالوں سے مسلمانوں کی افکار پر چھائے ہوئے تھی اور ثابت کیا کہ اسلام ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اسلامی امت کی معاشرے میں اصلاح اور ماڈرن بلکہ اس سے بھی زیادہ بلندیوں کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خونریزی کے بغیر انقلاب کے ساتھ اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلمانوں کی افکار کو تبدیل کردیا  اور یہ واضح کردیا ہے کہ اس طرح کا عمل اسلامی دنیا میں ممکن ہے اور اسلامی امت حکومت کو چلانے اور سنبھالنے پر قادر ہے۔

عالم کا صرف مسجد میں بیٹھنا اور فقط اسلام کی روحانی حیثیت کے بارے میں فکر کرنے کا وقت گزر چکا ہے اور اسلامی امت کا رہبر دنیا کے بارے میں بھی سوچتا ہے اور آخرت پر بھی توجہ رکھتا ہے۔

حضرت امام خمینی (ره) نے اسلام کی تمام حقیقی جہات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مسلمانوں کو سیاسی بنادیا، مسلمانوں میں سیاسی افکار و بصیرت کو پیدا کیا اور روشن خیالی پیدا کی اور ان کوششوں کے نتیجے میں آج مسلمان یہ سمجھ گئے ہیں کہ اسلام صرف مسجد میں بیٹھ کرعبادت کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اسلام، قرآن و سنت رسول کا ایک عظیم و قوی اور ترقی پسند تحریک کا نام ہے کہ جو تمام سیاسی و ثقافتی و اقتصادی میدانوں میں تحرک ایجاد کرسکے۔

امام خمینی(ره) کی سیاسی جدوجہد اور ظالم حکومت سے مقابلہ کرنے کا طریقہ کار بالکل سادہ اور ہر طرح کی سیاست بازی کے ہیرپھیر سے پاک و صاف تھا۔

آپ نے ابتدا سے ہی اپنے مقصد کو "شرعی ذمہ داری کی ادائیگی" قرار دیا، نہ یہ کہ اپنی اور لوگوں کی خواہشات کو پورا ہونا مقصد ہو۔ آپ کا نظریہ یہ تھا کہ ہم صرف الٰہی اور شرعی ذمہ داری پر عمل کریں گے تو یا کامیاب ہوجائیں گے یا قتل ہوجائیں گے اور ہر حال میں کامیاب ہیں۔

جدوجہد کا یہ طریقہ کار ان لوگوں کے لئے ناگوار تھا جو اپنے سماجی مقابلوں اور سیاسی معاملات میں مغربی سیاسی طریقہ کار کو اپناتے تھے، آپ کا یہ طریقہ کار نہ صرف حکومتی افراد اور مخالفوں کے غصہ کا باعث تھا، بلکہ آپ کے قریبیوں اور حامیوں کے لئے بھی تعجب انگیز تھا۔

لوگوں کے مختلف طبقات سے رابطہ قائم کرنے میں آپ کی خاص ذہانت تھی جو کم ہی کسی میں دکھائی دی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ بالکل سادہ باتوں سے جو سب لوگوں کو حتی غیر تعلیم یافتہ افراد کو بھی سمجھ آتی تھی، پیچیدہ ترین سیاسی اور سماجی مسائل کو بیان فرماتے تھے اور آپ کا اپنے بیانات کے ذریعے مومنین کے دلوں کی گہرائیوں میں اثرورسوخ تھا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ امام خمینی (رہ) کی رہبری کا طریقہ کار انقلاب اسلامی میں اوائل اسلام کی طویل تاریخی سنت کا نتیجہ ہے۔ آپ نے قرآن کریم اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے جو گہری معرفت اور بصیرت حاصل کی تھی اور اسلامی دنیا خصوصاً ایران کی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے تاریخی سلسلہ پر غور کیا اور نیز اپنے زمانے کے سیاسی اور معاشرتی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے جدوجہد کے اس طریقہ کار کو اپنایا۔

واضح رہے کہ کل بروز بدھ مطابق 3 جون (14 خرداد) بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) کی 31 ویں برسی کے موقع پر قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای خطاب فرمائیں گے جسے کل بروز بدھ ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے، پاکستان کے وقت کے مطابق 11:30 بجے اور ہندوستان کے وقت کے مطابق 12 بجے براہ راست ٹی وی اور ریڈیو سے نشر کیا جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر ہر سال بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر قائد اسلامی انقلاب خطاب فرماتے تھے تاہم رواں سال کرونا وائرس کے سبب برسی کا اجتماع نہیں ہوگا اور معمار انقلاب اسلامی  سے عقیدت رکھنے والے لوگ قائد انقلاب اسلامی کے براہ راست خطاب سے فائدہ اٹھائیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 3 =