اگر یورپ امریکی بربریت کے سامنے خاموش رہنا چاہتا ہے تو اسے اپنا منہ سدا بند کرنا ہوگا: ظریف

 تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر یورپ ویسے ہی امریکہ میں لوگوں اور میڈیا والوں کیخلاف بربریت کے سامنے خاموش رہنا چاہتا ہے تو اسے ہمیشہ کیلئے اپنا منہ بند کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے منگل کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوجی دباؤ کے خطرے کے ساتھ ساتھ امریکی شہر میڈیا والوں اور عوام کیخلاف بربریت کا منظر بن گئے ہیں۔

ظریف نے کہا کہ یورپ جو غیرمغربی ملکوں کے سامنے بہت جلد موقف اختیار کرتا ہے اب چھپ بیٹھ کر خاموشی اختیار کرچکا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر یورپ ویسے ہی امریکہ میں لوگوں اور میڈیا والوں کیخلاف بربریت کے سامنے خاموش رہنا چاہتا ہے تو اسے ہمیشہ کیلئے اپنا منہ بند کرنا ہوگا۔

ظریف نے اس سے پہلے کہا تھا کہ کچھ لوگ نہیں سوچتے ہیں کہ سیہ فام لوگوں کی جان کی قدر و قیمت ہے، ہم لوگوں میں سے جو سیہ فام لوگوں کی زندگی کی اہمیت دیتے ہیں کو جاننا ہوگا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ دنیا نسل پرستی کیخلاف مقابلہ کرے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی شہر مینیپولیس میں ایک سیہ فام شخص "جورج فلوئیڈ" کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد احجتاجی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔

یہ واقعہ منیپولیس میں پیش آیا اور اس واقعے کے تناظر میں تین روز سے مظاہرے ہو رہے ہیں؛ مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کو بھی آگ لگا دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے طیش میں آ کر ٹویٹ کی اور کہا کہ یہ بدمعاش، جورج فلوئیڈ کی یاد کی بے حرمتی کر رہے ہیں اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ اگر مشکل ہوئی تو ہم کنٹرول سنبھال لیں گے، جب لوٹ مار شروع ہو گی تو گولیاں چلنی شروع ہوں گی، شکریہ۔

یاد رہے کہ ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ اس دوران منی ایپلس کے میئر جیکب فرے پر تنقید کر رہے تھے کہ انھیں چاہیے کہ شہر کے حالات کو قابو میں رکھیں ورنہ میں نیشنل گارڈ بھیج کر خود ہی کام کروا لوں گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 7 =