ایرانی اراکین پارلیمنٹ کی امریکی پولیس کی نسلی دہشتگردی کی مذمت

تہران، ارنا – ایرانی پارلیمنٹ کے 240 اراکین نے اپنے ایک بیان میں امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف امریکی پولیس کی نسلی دہشتگردی کی مذمت کی۔

اس بیان کے مطابق، ایک بار پھر امریکی پولیس کی جانب سے غیر دفاعی سیاہ فاموں کے خلاف نسلی دہشت گردی نے امریکی حکومت کی غیر انسانی نوعیت کا پردہ کھینچا۔
جورج فلائیڈ امریکہ میں ہر سال پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیکڑوں سیاہ فام شہریوں میں سے ایک ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ سیاہ فام شہری کئی دہائیوں سے امریکی نسلی دہشت گردی کے تحت سانس لینے سے قاصر ہیں، لیکن اس بار منیا پولیس میں ایک پولیس افسر نے فلائیڈ کے گھٹنے پر دب کر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ میں گلا گھونٹ دیا اور اس کے قتل کی ویڈیوز نے نہ صرف کالوں کی آواز بنائی بلکہ تمام دبے ہوئے امریکیوں کی آواز بھی سنی گئی یہ کہتے ہوئے کہ "ہم سانس نہیں لے سکتے"۔
ایران کی پارلیمنٹ کے 240 نومنتخب ممبروں کے دستخط شدہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ میں حالیہ پیشرفت نے امریکی انسانی حقوق کی حقیقت کا انکشاف کیا، امریکہ کے دہشت گرد صدر نے مظاہرین کو جان سے مارنے کی دھمکی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ دوسرے ممالک کے عوام صرف امریکی ریاست کی دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ امریکی عوام اس حکومت میں طرح طرح کی دہشت گردی کا سب سے پہلے شکار ہیں۔
انہوں نے اس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کی پارلیمنٹ دنیا کے آزادی پسندوں کے ساتھ مل کر ، جورج فلائیڈ کے بہیمانہ قتل کی امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کے خلاف نسلی دہشت گردی کی تازہ ترین علامت کے طور پر مذمت کرتی ہے اور ان جرائم کے خلاف عوامی تحریک کی کامیابی کی خواہاں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے 240 نمائندوں نے اس بیان پر دستخط کردیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 3 =