ایران اور یوریشیا کی تجارتی لین دین کی شرح 1۔2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

تہران، ارنا- ایرانی کسٹم ادارہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ رواں سال کے گزشتہ 8 مہینے کے دوران، ایران اور یوریشین ممالک کے درمیان تجارتی لین دین کی شرح 2 ارب 112 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

"سید روح اللہ لطیفی" نے کہا کہ ایران اور یوریشین ملکوں کے درمیان مجموعی تجارت کے ایک ارب 528 ملین ڈالر کا حصہ درآمدات پر مشتمل ہے اور باقی 584 ملین ڈالر کا حصہ برآمدات پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باہمی تجارت کے 53 فیصد کا حصہ چھوٹ اور ترجیجی تجارت پر مبنی معاہدے کے مطابق کیا گیا ہے۔

ایرانی کسٹم ادارہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے سب سے زیادہ روس کو 53 فیصد، آرمینیا کو 23 فیصد، قازقستان کو 16 فیصد اور کرغیزستان کو 1۔5 فیصد کیساتھ مصنوعات کی برآمدات کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالیت کے لحاظ سے بھی ایران نے سب سے زیادہ روس کو 5۔78 فیصد، قازقستان کو 18 فیصد، وائٹ روس کو 2 فیصد اور آرمینیا اور کرغیزستان کو یک فیصد سے کم مصنوعات کی برآمدات کی ہیں۔

لطیفی نے کہا کہ ایران سے یورشین ملکوں کو برآمد شدہ 20 مصنوعات میں سے سب سے زیادہ تر حصہ تازہ سیب 5۔14 فیصد، خشک اور تازہ پستہ 9۔11 فیصد، نچرال گیس 1۔8 فیصد، کیوی فروٹ 2۔7 فیصد اور خشک انگور 3 فیصد کیساتھ، پر مشتمل ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیان آزاد تجارت کے عبوری معاہدے کا 27 اکتوبر سے آغاز کیا گیا۔

اس معاہدے کے نفاذ کے ایک سال بعد، ایران اور یوریشن رکن ممالک کیساتھ آزادانہ تجارت کے انتظامات کیے جائیں گے۔

اس عبوری تجارتی معاہدے میں 862 کی مختلف قسم مصنوعات شامل ہیں جن میں سے 360 قسم کی مصنوعات کو ایران سے یوریشن یونین میں برآمدات کی جاتی ہے اور باقی 502 قسم کی مصنوعات کو یوریشین یونین سے ایران میں برآمد ہوجائے گی۔

فی الحال، روس، بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغزستان یوریشین یونین کے پانچ ممبر ہیں لیکن اس یونین نے 40 سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =