ایران اور افغانستان کے وفدوں کا حالیہ سرحدی حادثے کا جائزہ

کابل، ارنا- کابل کے دورے پر آئے ہوئے  نائب ایرانی وزیر خارجہ "محسن بہاروند" کی قیادت میں ایرانی وفد نے افغان محکمہ خارجہ کے حکام سے حالیہ سرحدی حادثے سے متعلق بات چیت کی۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی کا اعلی سطحی وفد 2 مئی کو مشترکہ سرحدوں میں پیش آئے ہوئے حادثے کے جائزہ کیلئے آج بروز منگل کو دارالحکومت کابل پہنچ گئے جہاں انہوں نے افغان محکمہ خارجہ کے قائم مقام "محمد حنیف اتمر" سے ملاقات اور گفتگو کی۔

افغان محکہ خارجہ کے مطابق نائب ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے دی گئی امدادی کھیپ کو افغان حکام کا حوالہ کردیا۔

 اس موقع پر حنیف اتمر نے کرونا وائرس کیخلاف جنگ میں ایرانی امداد اور دی گئی طبی سہولیات اور ساز و سامان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے 2 مئی کے سرحدی حادثے متعلق افغان انکشافی ٹیم کے تحقیقات کی وضاحت کرتے ہوئے وصول کیے گئے دستاویزات کے پیش نظر ایران سے مشترکہ تحقیقات پر مزید توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

 اتمر کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات کا مقصد، حقیقت کا انشکاف اور حادثے میں ملوث عناصر کی سزا دینا ہے تا کہ آیندہ اس طرح کے ناگوار حادثے جو دوست اور ہمسایہ ملکوں کے تعلقات پر بُرے اثرات کرتب کر سکتے ہیں، وقوع پذیر نہ ہوجائیں۔

 بہاروند نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ایرانی عوام کیلئے بالکل قابل قبول نہیں ہیں اور ہم افغان وفد سے مشترکہ تحقیقات کے ذریعے حادثے کی وجوہات کے انکشاف کا وعدہ کرتے ہیں۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے حادثے میں ملوث عناصر کی سزا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باہمی تعلقات کے فریم ورک کے اندر اس طرح کے واقعات کی روک تھام سے متعلق مناسب حل نکالنے پر زور دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2 مئی کو افغان ذرائع ابلاغ نے ایک ویڈیو شائع کیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ 40 افغان شہری غیر قانونی طور پر سرحد پارکرتے ہوئے ایرانی سرزمین میں داخل ہونا چاہتے تھے جن کو ایرانی سرحدی بارڈرز گرفتار کرکے انہیں دریائے ہریرود میں ڈوبنے پر مجبور کیا تھا۔

اس کے بعد ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کا حادثہ افغانستان کی سرزمین پر وقوع پذیر ہوا ہے اور ایرانی سرحدی فورس نے ہماری سرزمین پر اس حوالے سے کسی بھی واقعے کی تردید کی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =