صیہونی دشمن کے مقابلے کو اسلامی اتحاد کی ضرورت ہے: ایرانی سفیر

اسلام آباد، ارنا – پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ صیہونی دشمن کے مقابلے کو اسلامی اتحاد کی ضرورت ہے۔

سید محمد علی حسینی نے جمعرات کے روز ایک  خطے کے کچھ عرب حکمرانوں کے اقدامات نے فلسطینیوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہغاصب صہیونی ریاست سے لڑنے کے لیے عالم اسلام کی یکجہتی کی لازمی ہے۔

حسینی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ 7 دہائیوں کے بعد ابھی مسئلہ فلسطین کا کوئی حل نہیں ہوتا ہے اور عالمی برادری اس پیچیدہ بحران کو حل کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنے حقوق کے حصول کیلیے اقوام متحدہ کی ناکام اقدامات کے پیش نظر  اسلامی ممالک کو اپنے مذہبی فرائض کی بنیاد پر متحد ہوکر اس غاصب ریاست( اسرائیل) جس نے ہمارے علاقے کے لئے قتل عام،غارت گری، تباہی ، اسلامی مقدسات کی توہین وغیرہ کے سوا کچھ نہیں کیا، کے خلاف واضح موقف اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم گذشتہ سالوں کی طرح فلسطین اور بیت القدس کی حمایت، امام خمینی سے تجدید عہد اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے لیے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو (یوم القدس) مناتے ہیں۔

٭٭جامع حل کا فقدان

ایرانی سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کو غاصبوں کے خوفناک جرائم کی پردہ پوشی کے لئے کچھ تجاویز پیش کی گئیں اور بین الاقوامی اور علاقائی اداروں میں صیہونی حکومت کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے متعدد قراردادیں جاری کی گئیں، لیکن ان اقدامات میں س فلسطینی عوام کے بچانے کیلیے کوئی اقدام کامیات نہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے صدی کا معاہدہ جو کچھ عرب ممالک کے توسط سے حمایت ہوتا ہے، فلسطینی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

٭٭فلسطین کے بارے میں ایران کے رد عمل پر ایک نظر

ایرانی سفیر نے کہا کہ 7 آگست 1979 کو ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور صیہونی حکومت کے خلاف دنیا کے مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے لیے، یوم القدس کا نام دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 11 =