عالمی ادارہ صحت کو ٹرمپ کا خط غلط وقت پر فضول کوشش ہے: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کو لکھے گئے خط میں اس تنظیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور آزادی پر سوال اٹھائے گئے جو غلط وقت پر کی جانے والی فضول کوشش ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے آج بروز بدھ کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت جب عالمی صحت کو خطرہ کا شکار ہے اور پوری ورلڈ میں مزید یکجہتی اور تعاون کی ضرورت ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کو لکھے گئے خط میں اس تنظیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور آزادی پر سوال اٹھائے گئے جو غلط وقت پر کی جانے والی فضول کوشش ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کو عالمگیر وبا کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے بہتر لائحہ عمل اختیار نہ کرنے کی صورت میں ہمیشہ کے لیے فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی۔

صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر "ٹیڈروس ادھانوم" کو خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر عالمی ادارہ صحت کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے اگلے 30 روز میں کوئی پختہ بہتری نہیں دکھاتا تو اس کی فنڈنگ ہمیشہ کے لیے روک دی جائے گی۔

ٹرمپ نے اپنے خط میں کہا کہ آپ کی  اور آپ کے ادارے کی جانب سے وبا پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر غلط اقدام واضح ہے جس کی قیمت پوری دنیا کو بھگتنی پڑ گئی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کا اس صورتحال میں ادارے کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ چین کی جانب سے آزاد ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خط میں مزید کہا کہ میری انتظامیہ پہلے ہی آپ سے اس پر بحث کرچکی ہے کہ ادارہ کس طرح بہتر کام کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے تیز کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت ضائع کرنے کا وقت نہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس پھیلانے کا الزام چین پر عائد کیا ہے اورساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت عالمگیر وبا کے حوالے سے اپنے بنیادی فرائض سرانجام دینے میں ناکام رہا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی فنڈنگ کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا تھا۔

اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر چین کی معاونت کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا عالمی ادارہ صحت کو سب سے زیادہ فنڈ دینے والا ملک ہے۔ امریکا نے گزشتہ برس بھی ڈبلیو ایچ او کو 400 ملین ڈالر یعنی 40 کروڑ ڈالر امداد دی تھی جب کہ چین نے سال 19-2018 کے دوران عالمی ادارہ صحت کو 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر فنڈ فراہم کیا تھا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 3 =