انسانی حقوق کے ہیڈ کوارٹر کی آسٹریلوی مجرم کے خودکشی کے الزامات کی تردید

تہران، ارنا – ایرانی عدلیہ کے انسانی حقوق کے ہیڈ کوارٹر نے اس ملک میں خاتون آسٹریلوی مجرم کے خودکشی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی طبیعت ٹھیک ہے، ان کے لئے علاج اور اپنے اہل خانے سے ٹیلی فونگ رابطہ سمیت تمام سہولیات فراہم ہوتی ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے انسانی حقوق کے ہیڈ کوارٹر نے بدھ کے روز ایک خاتون آسٹریلوی برطانوی شہری "کائلی مور گلبرٹ" کے خودکشی کے دعوے جو مغربی میڈيا میں شائع کیا گیا تھا، کو مسترد کیا۔
گیلبرٹ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ناجا‏ئز صہیونی ریاست کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
لیکن اس آسٹریلیائی برطانوی شہری کی خود کشی کا دعویٰ بھی کچھ دن نہیں چل سکا۔ ان کے اہل خانہ نے مغربی میڈیا کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور اس نے نہ صرف خود کشی نہیں کی بلکہ ان کے ساتھ اور سفارتخانے سے بھی رابطہ کیا۔
مغربی حکومت سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے اداروں نے دعوی کیا ہے کہ "کائلی مور گلبرٹ" نے جیل میں تین بار خود کشی کی ہے اور وہ انتہائی بری حالت میں ہے ، اس خدشہ سے کہ وہ جلد ہی مر جائے گی۔ لیکن ان کے اہل خانہ نے حالیہ ہفتوں میں ان سے بات کرنے کا اعتراف کیا ہے ، اور انہوں نے خود کشی یا تشدد کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور ان کی صحت ٹھیک ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 14 =