مسئلہ فلسطین کا واحد حل ایران کے مجوزہ 4 آرٹیکلز ریفرنڈم کا نفاذ ہے

قم، ارنا – عالمی "القدس شریف" ورچوئل کانگریس کے اراکین نے اقوام متحدہ کو ایک مشترکہ بیان میں اعلان کردیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے واحد حل ایران کے مجوزہ 4 آرٹیکلز ریفرنڈم کا نفاذ ہے۔

اس بیان میں آیا کہ اس کانگریس کے شرکاء کے مطابق، مسئلہ فلسطین کے حل کو ناجائز صہیونی ریاست ، امریکہ ، یا رجعت پسند حکومتوں کے ذریعہ ظالمانہ ، جابرانہ اور یکطرفہ منصوبہ نہیں بلکہ ایران کے مجوزہ ریفرنڈم عادلانہ اور انسانی حل ہے۔
اس کانگریس کے اراکین نے اقوام متحدہ اور عالمی تنظیموں سے اس منصوبے کے نفاذ کی حمایت اور اپنی انسانی ذمہ داری کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس بیان کے مطابق، ہم فلسطینی عوام اور عسکریت پسند گروہوں کے مزاحمت جسے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق ہے، کی حمایت کر رہے ہیں۔
ہم جنگجوؤں اور مزاحمتی قوتوں ، خاص طور پر اسلامی مزاحمت کے عظیم کمانڈروں شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے قتل میں امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔
ہم ، عالم اسلام کے ذہین افراد القدس شریف مسئلے جیسے بحرانوں کی جڑ کے حل کو ایک نئی اسلامی تہذیب اپنانے، اسلامی اخوت کے اصول کا نفاذ، قوم کے اتحاد، افراتفری اقدامات کا خاتمہ، اسلامی مذاکرات کی طرف راغب کرنا، تمام سائنسی شعبوں میں سائنسی، علمی اور ٹکنالوجی ترقی کی منصوبہ بندی، سائنس ، مشترکہ سائنسی ، ثقافتی ، میڈیا ، معاشی ، اور تجارتی اسلامی مارکیٹ کے قیام اور مشترکہ اسلامی تشخص کی بحالی اور اسلامی اقدار کی واپسی پر توجہ دینا قرار دیتے ہیں۔
اس بیان میں لکھا گیا کہ اس عالمی کانگریس کے شرکاء ڈيل آف سنچری کو امریکی سازش، خطے کی رجعت پسند حکومتوں اور صہیونیوں کے درمیان تعلقات قائم کرنا جن کا مقصد ان کے قبضہ کی ترقی، فلسطینی قوم اور سرزمین کی پامالی ہے، کی علامت قرار دے کر جسے کسی قانونی جواز کے بغیر سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ القدس بین الاقوامی آن لائن کانگریس کا 18 ممالک کے مقررین کی شرکت سے 19 اور 20 مئی کو انعقاد کیا گیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 6 =