بعض عرب ممالک صہیونی ریاست سے تعلقات کو معمول پر لانے کے خواہاں ہیں

قم، ارنا- فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ خطے کے کچھ عرب ممالک صیہونی ریاست کیساتھ اپنے ثقافتی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں یہ جاننا ہوگا  کہ تعلقات کو معمول پر لانے سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "خالد قدومی" نے منگل کے روز القدس بین الاقوامی کانگریس کے ورچوئل اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک اور مسلمان عوام کو غاصب صہیونی ریاست کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیخلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو ناجائز صہیونی ریاست کیساتھ  اپنے تعلقات کو معمول پر لائے ہیں انہیں بہت ساری معاشی پریشانیوں اور معاشرتی چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

قدومی نے کہا کہ اگر دنیا کے تمام آزاد افراد اٹھ کر کھڑے ہوجائیں اور سیاسی رہنما صحیح موقف اختیار کریں تو ناجائز صہیونی ریاست جیسا کینسر جلد ہی عالمی سطح پر ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسلامی ممالک کو صدی کی ڈیل جیسے انتہائی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

قدومی کا کہنا ہے کہ اگرچہ غاصب صہیونی ریاست کے پاس جدید اور طاقتور فوجی سازوسامان موجود ہیں لیکن فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو اب بھی اس ناجائز ریاست کیخلاف مقابلہ کرنے کی طاقت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ غزہ کی بزدلانہ ناکہ بندی کے باوجود، فلسطینی عوام غاصب صہیونی ریاست کو چیلنج کرسکتے ہیں اور ان کیخلاف مقابلہ کر سکتے ہیں۔

قدومی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ اسلامی ممالک اور سیاسی گروہوں میں اتحاد و مزاحمت ہے۔

واضح رہے کہ القدس بین الاقوامی آن لائن کانگریس کا 18 ممالک کے مقررین کی شرکت سے 19 اور 20 مئی کو انعقاد کیا گیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 2 =