ایران کا تمام امن عمل میں افغان حکومت کے مرکزی کردار پر زور  

 تہران، ارنا- ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق تمام عمل میں افغان حکومت کے مرکزی کردار پر زو دیا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل "علی شمخانی" نے آج بروز منگل کو اپنے افغان ہم منصب "حمد اللہ محب" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے افغان صدر"اشرف غنی" اور افغان قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ "عبداللہ عبداللہ" کے درمیان سیاسی ڈیل طے ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس اقدام کو افغان حکومت میں قیام امن اور استحکام کیلئے انتہائی موثر قرار دے دیا۔

شمخانی نے کہا کہ جامع انٹرا ڈائیلاگ افغان مذاکرات کا آغاز جمہوریت اور آئین سمیت افغانستان کے عظیم لوگوں کی کامیابیوں کے تحفظ کیلئے ایک اور ضروری اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔

انہون نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق تمام عمل میں افغان حکومت کے مرکزی کردار پر زو دیا۔

 ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں ناقابل قبول راہ پر گامزن ہے۔

شمخانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران ماضی کی طرح افغان بھائیوں اور بہنوں کو مفت میں صحت اور طبی امداد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران کے سرحدی محافظ، مشترکہ سرحدوں میں میں افغان شہریوں کے ایک گروہ کی المناک موت میں ملوث نہیں تھے لیکن کچھ افغان عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے عدم حقیقت پر مبنی خبروں کی کوریج حیران کن ہے۔

شمخانی نے کہا کہ ایران پرعائد الزامات کی تردید میں ناقابل تردید دستاویزات موجود ہیں اور افغان فریق کی خواست کی بنا پر جوائنٹ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں ان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

 اس موقع پر افغانستان کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان سیاسی ڈیل طے ہونے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تعمیری کردار کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مشترکہ سرحدوں میں غیر قانونی رفت و آمد کو ایک پرانے مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کر دیا کہ اس ناگوار حادثے اس مسئلے کے دیر پا حل تلاش کرنے کا اہم موقع بن جائے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =