امریکہ کو قانونی تجارت کی راہ میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دنیا میں قانونی تجارت کا سلسلہ جاری ہے اور امریکہ کو قانونی تجارت کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے منگل کے روز صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے امریکہ کیجانب سے وینزویلا میں جانے والے ایرانی آئل ٹینکروں کی راہ میں رکاوٹ حائل کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کو قانونی تجارت کی راہ میں خلل ڈالنے کی کوئی اجازت نہیں ہے اور اس کی یہ اپنائی ہوئی پالیسی پوری دنیا کیلئے خطرناک ہے۔

ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی ملک اپنی غلط سیاسی پالیسیوں کے مطابق موقف اپنائے اور قانونی تجارت کی راہ میں خلل ڈالے تو عالمی برادری ضرور اس کیخلاف جوابی کاروائی کرے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام میں ایک خط میں امریکہ کیجانب سے ایران سے وینزویلا کو ایندھن کی نقل و حمل میں مداخلت اور رکاوٹیں حائل کرنے کے ارادے سے کیریبین میں بحری جہاز بھیجنے کے اقدامات سے خبردار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی سرکاری عہدیداروں کیجانب سے وینزویلا میں ایرانی ایندھن کے ٹینکروں کو ہراساں کرنے کی دھمکیوں کے رد عمل میں اس خط کو اقوام متحدہ کے سربراہ کے نام میں لکھا ہے۔

محمد جواد ظریف نے انٹونیو گوٹرش کے نام میں لکھے گئے اس خط میں امریکہ کی غیر قانونی، خطرناک اور اشتعال انگیز دھمکیوں کو ایک طرح کی بحری قزاقی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو عالمی میدان میں طاقت کا استعمال بند کرنا ہوگا اور اسے بین الاقوامی قوانین بالخصوص آزاد پانیوں میں آزاد جہازرانی کے قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔

انہوں نے ایران کیجانب سے ہرکسی کے غیر قانونی اقدامات کا جوابی کاروائی دینے کے حوالے سے امریکہ کو ذمہ دار قرار دے دیا۔

اس کے علاوہ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور "سید عباس عراقچی" نے ایرانی میں تعنیات سوئس سفیر جس کا ملک امریکی مفادات کے محافظ ہے، کو دفتر خارجہ طلب کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی عہدیداروں کو ایرانی آئل ٹینکروں کیخلاف کسی بھی ممکنہ خطرے سے خبردار کریں۔

عراقچی نے ایران اور وینزویلا کے درمیان تجارتی تعلقات کو قانونی قرار دیتے ہوئے امریکہ کیجانب سے تسلط پسندانہ اور جبر مبنی اقدامات کو آزاد جہازرانی اور بین الاقوامی تجارت میں خطرے قرار دے دیا اور کہا کہ امریکہ کے ان اقدامات بحری قزاقی کے عین مطابق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی آئل ٹینکروں کیخلاف ہر کسی دھمکی کا سخت جواب دیں گے جن کا ذمہ دار امریکہ ہی ہوگا۔

اس موقع پر سوئٹزرلینڈ کے سفیر نے وعدہ کیا وہ بہت جلد ایران کے پیغام کو امریکی حکام تک پہنچادیں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 4 =