امریکہ دہشتگردی کی روک تھام کی آڑ میں شام پر قبضے کا خاتمہ دے: ایران

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعنیات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج جن کی موجودگی کو شامی حکومت غیر قانونی سمجھتی ہے ان کو شام کو چھوڑنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار "مجید تخت روانچی" نے آج بروز پیر کو شام سے متعلق اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کی آن لائن نشست کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے شام سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ شامی مسئلہ کا واحد طریقہ حل، سیاسی طریقہ ہے۔

تخت روانچی نے آستانہ امن عمل کے مختلف اجلاسوں میں شام کی آئین ساز کمیٹی کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے اس کمیٹی کی سرگرمیوں کی راہ میں ہر کسی بیرونی دباؤ کو ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ شام کی آئین ساز کمیٹی کو کسی بھی ممکنہ مدد حتی کہ اقوام متحدہ کیجانب سے مدد، صرف کمیٹی کی درخواست پر ہی ہونا چاہئے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم کسی بھی علیحدگی پسند پروگرام کے ساتھ ساتھ دنیا پر نئی حقیقتیں پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں۔

 تخت روانچی نے کہا کہ شام کی خودمختاری، سیاسی آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا پوری طرح احترام کرنا چاہئے اور اسی کے مطابق وہ تمام غیر ملکی قوتیں جن کی موجودگی کو شامی حکومت غیر قانونی سمجھتی ہے، انہیں شام چھوڑنا چاہئے۔

 انہوں نے کہا کہ اس کی زندہ مثال امریکی افواج کے ذریعہ شام کے کچھ حصوں کا قبضہ ہے جو دہشتگردی کیخلاف جنگ کی آڑ میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور حفاظت کرتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے شام کیخلاف صیہونی ریاست کی جارحیت کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شامی حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ اپنے دفاع کے اپنے فطری حق کو کب اور کس طرح استعمال کیا جائے۔

انہوں نے ہم اس بات پر زور دیا کہ شام کی گولان پہاڑیوں پرناجائز صہیونی ریاست کا قبضہ غیر قانونی ہے اور ہم امریکہ کیجانب سے اسرائیل سے گولان پہاڑیوں کے الحاق کی منظوری کو کالعدم سمجھتے ہیں۔

تخت روانچی نے کہا کہ ہم اس طرح کے غیر قانونی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گولان کی  پہاڑیوں شام کی سرزمین کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ صرف شامی عوام ہی کریں گے اور بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے ان کی مدد کرنی ہوگی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 3 =