مغربی کنارے پر اسرائیل کے عزائم یوم القدس کی اہمیت کو دگنا کرتے ہیں: امریکی پروفیسر

نیویارک، ارنا - امریکی ریاست ٹیکساس کی ہیوسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر نے مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے کی شمولیت کے لیے صہیونی ریاست کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی سرزمین پر قبضے کو کو قانونی حیثیت دینے کے ساتھ مخالفت کا اعلان رواں سال یوم القدس کی اہمیت کو دوگنا کرتا ہے۔

 یہ بات جیرالڈ ہورن نے ہفتہ کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے منصوبوں اور ان کی حمایت کے لئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ملاقات کی وجہ سے خطے کی صورتحال دھماکے کے دہانے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا خطرہ فلسطینی علاقوں سے آگے بڑھ کر اردن اور مصر کو دہمکی دیتا ہے اور دونوں ملکوں کے استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مصری صدر 'السیسی' کا خیال ہے کہ وہ مصر کی صورتحال پر قابو پالیا ہے لیکن مقبوضہ علاقوں کی حساس صورتحال، فلسطینیوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی اور اسرائیل کی جابرانہ پالیسیوں سے امریکہ کی حمایت کے باوجود مصر اپنے استحکام کو برقرار رکھنے میں پرامید نہیں ہوسکتا ہے اور وہ فلسطینی علاقوں کے بحران سے نہیں بچ سکے گا۔

ہورن نے یوم قدس کو مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی حکومت کی پالیسیوں پر زور دینے کا ایک موقع سمجھتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو نے مغربی کنارے اور ان کی بستیوں کو اسرائیل سے الحاق کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا منصوبہ فلسطینیوں کے مستقبل کے لئے دائیں بازو کے ایک انتہائی پروگرام پر عملدرآمد کرنا ہے۔

امریکی پروفیسر نے کہا کہ یقینا نیتن یاہو اور بنی گانٹز کے درمیان اتحادی کامیاب نہیں ہوگی اور ان کی حکومت بھی زیادہ مستحکم اور زوال پذیر ہوگی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@         

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 8 =