یوم القدس صہیونیت کیخلاف ابراہیمی مذاہب کے مابین یکجہتی کا مظہر ہے

نیویارک، ارنا - صہیونیت کیخلاف عالمی یکجہتی تحریک کا رکن نے ابراہیمی مذاہب سے تعلق رکھنے والے القدس کے عالمی دن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس دن کی علامتی اہمیت بیت المقدس اور فلسطین کو صیہونی قبضے سے آزاد کروانے کے لئے مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کا جمع ہونا ہے۔

یہ بات پل لارودی نے حالیہ دنوں میں ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ کم از کم بیسویں صدی تک ، بیت المقدس کی ملکیت کے بارے میں کوئی مشکل نہیں تھا ،لیکن صہیونیت کے ظہور کے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا، اس بات پر اصرار کیا کہ بیت المقدس صرف یہودیوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے اور اس میں اسلام اور عیسائیت کا کوئی حق نہیں ہے اور عیسائی اور اسلامی مقدس مقامات کے باوجود بیت المقدس ایک یہودی شہر ہوگا.

انہوں نے کہا کہ یوم قدس ایک اہم موقع ہے جس کے دوران دنیا صیہونیت کے دعوے کو نہیں مانتی اور اعلان کرتی ہے کہ بیت المقدس سب کا ہے۔

صیہونزم کے خلاف "عالمی یکجہتی تحریک کے ممبر نے بتایا کہ یہ دن فلسطینیوں کو اپنی جدوجہد سےعظیم عالمی یکجہتی کی یاد دلاتا ہے، کیونکہ یروشلم نہ صرف فلسطینیوں کے لئے ایک مقدس شہر بلکہ ان کی سرزمین کا ایک جزو ہے۔

لارودی نے کہا کہ یوم القدس نے فلسطینیوں کو یقین دلایا کہ بیت المقدس اور اس کے زیر قبضہ علاقوں کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے مغربی کنارے کے نئے حصوں کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے لئے صیہونی ریاست کی جامع کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں یوم القدس فلسطینی عوام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کے دورہ فلسطین اور صہیونی حکام کے ساتھ ملاقات کے مقصد کے حوالے سے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی حکومت اور ٹرمپ کو اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کیونکہ واشنگٹن طویل عرصے سے اسرائیل میں شامل ہوچکا ہے اور اسرائیل جو چاہے ،واشنگٹن اس پر عمل کرتا ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 0 =