سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں امریکی شراکت داری ختم ہوچکی ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 میں شراکت دار ہونے کا دعوی کرنے والوں نے اس سے بہت پہلے اپنی شراکت ختم کردی تھی۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے آج بروز جمعرات کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے امریکی حکام کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہی لوگ جنہوں نے جسم سے کرونا وائرس کو پاک کرنے کیلئے جراثیم کشی کے انجیکشن لگانے سے متعلق خیالی تصور کیا تھا وہ ایک معاہدے کی منظوری کیلئے سلامتی کونسل کی قرارداد میں شراکت دار ہونے کا دعوی کرتے ہیں؛ تاہم، ان کے بقول انھوں نے اپنی شراکت داری بہت پہلے ختم کردی ہے؛ کاش کافکا (فرانز کافکا) ابھی یہان ہوتا!

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں کے دوران، اس بات کا دعوی کیا ہے کہ امریکہ قرارداد نمبر 2231 میں شرکت دار ہے اور اس کی شق نمبر 11 کے مطابق، اس نے ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے روس، چین اور بعض یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد 2231 کی غلط تشریح کی بنا پر ہے جو امریکہ نے 8 مئی 2018 کو اس میں شراکت دار بننے کا خاتمہ دیا۔

واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے اتوار کی رات (26 اپریل) کو ایران کے اسلحہ کی پابندی میں توسیع کیلئے امریکی چال کا انکشاف کیا تھا ، جسے رواں سال 18 اکتوبر سے جوہری معاہدے کے تحت اٹھایا جائے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو قانونی موقف تیار کر رہے ہیں جن میں کہا جائے گا کہ امریکہ ایران کیساتھ طے ہونے والے اس جوہری معاہدے کا حصہ ہے جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 2018ء میں جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 0 =