صوبے لرستان میں پولو فیلڈ سے متعلق سب سے پہلے ایرانی کتبے کی دریافت

خرم آباد، ارنا- ایرانی صوبے لرستان کے ادارہ برائے ثقافتی ورثے، دستکاری مصنوعات اور سیاحتی امور کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس صوبے میں پولو فیلڈ سے متعلق سب سے پہلے ایرانی کتبے کی دریافت کی گئی۔

ان خیالات کا اظہار"سید امین قاسمی" نے بدھ کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے لرستان کے شہر الیگودرز میں حالیہ آثار قدیمہ اور انسانیت کے مطالعے کے دوران، لرستان کے پہلے پولو فیلڈ اور ملک کے تیسرے پولو فیلڈ سے متعلق اہم آرکیٹیکچرل اور تاریخی عناصر حاصل کیے گئے ہیں۔

قاسمی نے کہا کہ دریافت شدہ فن تعمیر کے عناصر میں 4 اسٹینڈ اسٹون ملز شامل ہیں اور یہ پولو فیلڈ کے دروازوں سے متعلق ہیں جن میں سے ایک پر فارسی زبان میں لکھے گئے کتبے موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پولو فیلڈ "خلیل آباد" نامی گاؤں کی "قالی کوہ" اور "اشترانکوہ" پہاڑوں کے درمیان واقع ہے اور مستقبل میں اس صوبے کے سیاحتی مقامات میں شامل کیا جائے گا۔

ثقافتی ورثے کے ماہرین کے مطابق پولو فیلڈ سے متعلق دریافت کیے گئے کتبے پر فارسی زبان کی 4 شعریں لکھی گئی ہیں اور یہ سنہ 1116 یعنی صفوی دور سے متعلق ہے۔

 واضح رہے کہ دنیا کے سب سے قدیم پولو میدان اصفہان کے نقش جہاں اسکوائر میں موجود ہے  اور لرستان میں دریافت کیے گئے پولو فیلڈ، اصفہان اور قزوین کے بعد ایران کا تیسرا پولو فیلڈ ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران کے جنوب مغربی صوبے لرستان میں پانچ ہزار ثقاتی ورثے کی مصنوعات موجود ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 9 =