امریکہ میں زیر حراست ایرانی سائنسدان کی جلد رہائی ہوگی: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ میں زیر حراست ایرانی سائنسدان "سیروس عسگری" کو ان کیخلاف لگائے گئے الزامات سے کلیئر قرار دیا گیا اور اگر ان کا کرونا وائرس ٹسیٹ منفی ہوجائے تو وہ پہلی پرواز سے وطن واپس جا سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز پیر کو پارلیمنٹ میں قائم قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی سائنسدان سیروس عسگری جلد ہی وطن واپس آئیں گے؛ وہ آزاد ہیں لیکن امریکہ میں ان کو ویزہ منسوخی اور رہائش سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔

ظریف نے کہا کہ عسگری کو ان کیخلاف لگائے گئے الزمات سے کلیئر قرار دیا گیا ہے؛ ہم نے ان کی واپسی کی پرواز کا بند وبست کرنے سے متعلق سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں اور سب کچھ کا انتظام کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر عسگری کا کرونا وائرس ٹسٹ منفی ہوجائے تو وہ پہلی پرواز سے وطن واپس جاسکتے ہیں۔ 

 انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلہ سے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران نیویارک میں کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، امریکہ اور دیگر ملکوں میں امریکی دباؤ کے تحت جیل میں موجود ایرانی قیدیوں کو امریکی قیدیوں سے تبادلہ پر تیار ہے لیکن اس وقت امریکہ نے ہمارے بیانات کا جواب ہی نہیں دیا۔

انہوں نے افغان پناہ گزینوں کے حادثے سے متعلق کیے گئے اقدامات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہت ناگوار حادثہ تھا اور ایرانی وزارت داخلہ اور سلامتی کونسل نے حادثے کے ابتدائی دنوں ہی سے اس حوالے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

ظریف نے کہا کہ ان کا یقین ہے کہ یہ حادثہ افغان سرزمین پر وقوع پذیر ہوا ہے لیکن افغانستان سے تعلقات کی اہمیت کی بنا پر دونوں ملکوں کے ایک مشترکہ وفد کے ذریعے اس حادثے کے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وفد کے قیام کی تجویز کو ہم نے افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر کو دی تھی اور ان شاللہ قریب مستقبل میں اس وفد کی تشکیل ہوجائے گی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 13 =