دنیا کی خواتین سیاسی رہنماوں کا ایران مخالف پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ

تہران، ارنا – دنیا کی خواتین سیاسی رہنماوں نے خاتون نائب ایرانی صدر برائے خواتین اور خاندانی امور کے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے باہمی اتحاد کی ضرورت اور امریکی پابندیوں کی مذمت کرنے خط کے جواب میں کہا ہے کہ ایسی پابندیوں کے خاتمے کے لئے بھرپور کوشش کریں گی۔

اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن کی ایگزیکٹو سکریٹری برائے لاطینی امریکہ اور کیریبین "آلیشیا بارنا" دنیا کی خواتین سیاسی رہنماوں میں سے ایک ہے، نے خاتون ایرانی نائب صدر معصومہ ابتکار کے خط کے جواب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں ایرانی خاندانوں پر زیادہ سماجی اور معیشتی دباؤ پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کمیشن پابندیوں جو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ممالک کی کمزوری کا باعث بن گئی ہیں، کے خاتمے کی درخواست کو عالمی سطح پر بالخصوص اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور گروپ 20 ورچوئل اجلاس میں عکاسی کرے گا۔
اقوام متحدہ کے انسانی آبادکاری پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر "میمنت محمد شریف" نے بھی ابتکار کے خط کے جواب میں کہا کہ یہ پابندیوں کو ختم کرنے کی عکاسی کے لئے کوشش کریں گی۔
قوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر "اینگر آنڈرسن" نے اس خط کے جواب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر افسوس اور ایرانی متاثر خاندانوں اور حکومت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ساتھ مل کر اس وائرس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے درکار ادویات اور سازو سامان کی درآمدات کے لئے ایران کے مسائل کو تمام حکومتوں کے ساتھ شیئر کریں۔
خاتون نائب ایرانی صدر برائے خواتین اور خاندانی امور "معصومہ ابتکار" نے گزشتہ مہینے میں وزارت خارجہ کی جانب سے بھیجے گئے دنیا کی خواتین سیاسی رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں اہم مسائل کو پیش کیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 10 =