دنیا کے آزاد ممالک ٹرمپ کے غیر قانونی اقدامات کو روک دیں

 اسلام آباد، ارنا-  پاکستانی شہر کراچی میں تعنیات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلر نے امریکی یکطرفہ اور دہمکی آمیز اقدامات کی وجہ سے دنیا میں رونما ہونے والی ہل چل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے آزاد ریاستوں کو ٹرمپ کے غیر قانونی اقدامات کو روکنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار "احمد محمدی" نے پاکستانی پریس اور آن لائن اخباروں میں "جوہری معاہدے سے علیحدگی؛ بین الاقوامی وعدوں پر امریکی عدم پابندی کا تسلسل" کے عنوان کے تحت چھپے گئے ایک مضمون میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کل ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کی دوسری سالگرہ ہے؛ جوہری معاہدہ ایک بین الاقوامی ہے جو ایران اور گروپ 1+5 کےدرمیان کئی سالوں کے مذاکرات سے حاصل ہوا ہے۔

احمدی نے کہا کہ اس معاہدے کو دنیا کا سب سے منفرد سفارتی اقدام سمجھا جاتا ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے سلسلے میں دنیا کے اشرافیہ اور عوام کی رائے نے خیر مقدم کیا اور یہ ظاہر کیا ہے کہ منطقی مذاکرات منطقی انجام تک پہنچتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف پابندیوں کو کالعدم قرار دے کر اسلامی جمہوریہ ایران کے کیس کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب سے ہٹادیا۔ 

 ایرانی قونصلر نے کہا کہ دنیا میں یہ پہلا موقع تھا جب طاقت اور جنگ کا سہارا لئے بغیر اور صرف مذاکرات اور معاہدے کے ذریعے ہی کسی ملک کا کیس اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران کیساتھ  مزید عمومی امور پر اتفاق رائے کیلئے مختلف امور پر بات چیت کے ایک نئے دور کی پیش کش کی۔

احمدی نے کہا کہ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنماؤں اور رائے عامہ نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کردیا کیونکہ انہیں یقین ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں سے کسی بھی ریاست کا یکطرفہ دستبرداری اس ریاست پر مکمل عدم اعتماد کا باعث بنے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس میں کیا گارنٹی ہے کہ مذاکرات کے نئے دور بھی جوہری معاہدے کے انجام جیسا نہ بن جائیں؟

احمدی نے کہا کہ جوہری معاہدے سے علیحدگی ٹرمپ کا بین الاقوامی معاہدوں سے دستبرداری سے متعلق واحد اقدام نہیں ہے؛ ان کی انتظامیہ کا بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدگی اور دہمکیوں دینے اور جبر کےذریعے بین الاقوامی تنظیموں پر اپنی رائے کو مسلط کرنے کا سیاہ کارنامہ ہے۔ 

کراچی میں تعنیات ایرانی قونصلر نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی سے دوسال گزرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف غیر قانونی پابندیاں لگانے اور دہمکیاں دینے کے پیش نظر، آزاد ممالک کو چاہیے کہ ان جیسی حکومتوں کو قوانین اور بین الاقوامی وعدوں پر پابندی پر مجبور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔

احمدی نے کہا کہ دنیا میں بین الاقوامی ہل چل اور انتشار کو روکنے کیلئے اس طرح کی اقدامات ضروری ہیں اور اس طرح کی کوششں تو یقینا بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں درج ہوں گی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =