سلامتی کونسل کے پاس ایران کیخلاف امریکی دعوے کو مسترد کرنے کی مضبوط وجوہات ہیں

نیویارک، ارنا – امریکی خارجہ تعلقات کونسل کے تھنک ٹینک کی رکن نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین کے پاس 2231 میں امریکی رکنیت کے دعوے کو مسترد کرنے کی مضبوط سیاسی اور قانونی وجوہات ہیں اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے انتخابی رویے کی بھر پور مخالفت کرنا ہوگی۔

یہ بات "کلسی داونپرٹ" نے ہفتہ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین سے ٹرمپ کی حکومت کی غنڈہ گری پر سخت ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو جو جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا اور اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لئے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تبصروں کے ساتھ انتخابی سلوک کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔
داونپرٹ نے کہا کہ اگر ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران پر اقوام متحدہ کے اسلحے کی پابندی کے خاتمے پر پریشان ہے تو وہ تہران کے ساتھ علاقائی سلامتی کے امور پر مذاکرات کرے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے جوہری معاہدے علیحدگی اور پابندیوں کو عائد کرنے کے ساتھ امریکہ کو ایک سنگین دھچکا لگایا ہے مگر ایران اور امریکہ جوہری معاہدہ اور اس کے بھرپور عمل کرنے پر واپس آئیں دوسرے موضوعات پر مذاکرات کرنے کے دروازے کھول کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، جوہری معاہد سے امریکی علیحدگی کے باوجود اس ملک نے ایران کے خلاف اسلحہ پابندی میں توسیع پیش کرنے کے لئے ایک مسودہ تیار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، امریکہ اس بل کو مئی مہینے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹ پر ڈالے گا۔
27 اکتوبر 2020 کو ایران کے خلاف اسلحے کی پابندی کا خاتمہ جوہری معاہدے کا ایک حصہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 6 =