امریکہ نے قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کیساتھ بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا ہے

نیویارک، ارنا – اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کثیر الجہتی کی توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرکے بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا ہے۔

 یہ بات مجید تخت روانچی نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامت دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رسمی اور ان لائن اجلاس کے موقع پر کہی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی اور دوسرے ممالک کو دہمکی دینے کےساتھ بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا ہے۔

تخت روانچی نے مزید کہا کہ کثیر الجہتی کو بہت سارے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے، قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی تعاون کو تقویت دینے کی لازمی ہے۔

انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے تلخ تجربے سے حاصل کردہ اسباق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کو مذاق اڑانے کی زندہ مثالوں میں سے ایک، سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی اور اس قرارداد کی خلاف ورزی کیلیے دوسرے ممالک کو شرمناک دہمکی اور سزا دینا ہے.

انہوں نے اقوام متحدہ کے قیام کے مقصد کو عالمی مسائل کے حل کیلیے ممالک کے اقدامات کا کوآرڈینیشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ جیسے بعض ممالک کی پالیسیوں اور اقدامات جو جو بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس کی خارجہ پالیسی، غیر جانبدارانہ پابندیوں جیسے غیر انسانی رویوں کے استعمال کی عادی ہوگئی ہے، نے اس تنظیم کی ساکھ اور قانوں کی حکمرانی کو کمزور کردیا ہے.

ایرانی مندوب نے امریکہ کی جانب سے تنظیموں اور بین الاقوامی معاہدوں بشمول جوہری معاہدے سے علیحدگی اور قرارداد 2231 کی خلاف ورزی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پالیسیوں نے کثیر الجہتی کو مشکل کا سامنا کر کے ممالک کے اجتماعی مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 4 =