ایران کیساتھ تجارتی چینل توقع سے زیادہ سست رہا ہے: سوئٹزرلینڈ

تہران، ارنا – سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی چینل جو اس کے بنیادی سامانوں میں تجارت کی سہولت کے لئے امریکی منظوری کے ساتھ تشکیل دیا گیا توقع سے کم تھا اور اس کے کوئی خاص نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔

امریکی ڈیلی بیس نیوز ویب سائٹ کے مطابق، سویڈش حکومت نے اعلان کردیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو ادویات اور دیگر اشیاء برآمد کرنے کے لئے بنانے والے "انسان دوستانہ" چینل در حقیقت کسی خاص تبادلے کا سبب نہیں بن سکا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے معیشتی امور کے ترجمان "فابیان ماینفیش" نے کہا کہ کوئی لین دین نہیں ہوا ہے اور بدقسمتی سے کوویڈ- 19 بیماری کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کی وجہ سے یہ سارا عمل توقع سے کم سست رہا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایرانی حکومت نے کرونا وائرس کے لئے ہماری انسانی امداد کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے مگر یہ پیش کش ابھی بھی میز پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور سوئٹزرلینڈ " سوئس کے انسان دوستانہ تجارتی معاہدہ" کی کامیابی کے لئے پرعزم ہیں ، اور ہم توقع کرتے ہیں کہ تبادلہ جلد جاری رہے گا اور ایرانی صدر روحانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی پابندیوں نے کوویڈ-19 کے خلاف ردعمل میں خلل نہیں ڈالا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور ایران کے مابین زرعی اور دوا ساز سامان کے تبادلے کے لئے ایک نیا طریقہ کار مکمل طور پر چل رہا ہے۔
امریکہ نے اس طریقہ کار کے ذریعہ ایک انسان دوست چہرہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ، جسے "سوئٹزرلینڈ کی انسانیت پسندی کی کارروائی" کا نام دیا گیا ہے، ادھر ، ایران کے خلاف واشنگٹن کی وحشیانہ پابندیوں میں ادویات اور زرعی مصنوعات شامل ہیں جس سے مشکل حالات پیدا ہوگئے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 10 =