سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کریں گے: ایرانی صدر

تہران، ارنا – صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلحے کی پابندی کے خاتمے کو جوہری معاہدے کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک کو جاں لیں کہ ہم کبھی بھی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "حسن روحانی" نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہو‏ئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ 2018 کے 8 مئی کو اندرونی انتہا پسندوں، ناجائز صہیونی ریاست اور سعودی عرب کے دباؤ کے تحت اور سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ضد کی وجہ سے ایک بیوقوفانہ اقدام میں عالمی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہوگیا۔
صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ بالکل جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا ہے اور 4+1 ممالک نے بھی اس معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے، ہم اب توازن کی حالت میں ہیں جب بھی وہ اپنی مکمل ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر راضی ہوں گے ، ہم اسی دن اپنے جوہری وعدوں پر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا  کہ امریکہ ایک یا دو مہینے پہلے سے غفلت کی نیند سے جاگ چکا ہے اور انہوں نے سمجھا کہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ علیحدگی ایک بڑی غلطی تھی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے میں ہمارے دو نکات ہیں، ایک وہ پانچ سالہ مدت ، جب اسلحہ کی پابندی ختم ہوجائے گی  اور دوسرا 8 سال اور 10 سال کا عرصہ ہے  جب تمام پابندیاں ختم کردی جائیں گی، اب ہم پہلے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں جہاں ہتھیاروں کا پابندی ختم کرنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کے پاس آگے نہ جانے کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی واپس کا راستہ لہذا ایران کو سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اسلحہ کی پابندی سے جلد دستبردار ہونے کا ناگزیر حق ہے۔
روحانی افزود: اکنون آنها نه راه پیش دارند و نه را ه پس؛ ایران حق مسلمش است که به زودی از تحریم‌های تسلیحاتی در چارچوب قطعنامه ۲۲۳۱ خارج شود. ما اگر سلاحی بسازیم یا بخریم، این سلاح برای دفاع از ملت‌ها است. سلاح ما بنزین بر آتش نیست بلکه آب بر آتش است و نمی‌گذاریم جنگی آغاز شود.  
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم ہتھیار بناتے یا خریدتے ہیں تو قوموں کا دفاع کرنے کا ایک ہتھیار ہے، ہمارا ہتھیار آگ پر پٹرول نہیں ، بلکہ آگ پر پانی ہے اور کسی جنگ کے آغاز کی اجازت نہیں دیں گے۔
روحانی نے بتایا کہ اگر امریکہ توبہ کرے، جوہری معاہدے پر واپس آجائے ، ایرانی عوام سے معافی مانگے اور ان پر جرمانہ عائد کرے ، تو یہ سب سے بہتر راستہ ہے مگر ہمیں لگتا ہے کہ ٹرمپ کی حکومت کے پاس ایسا نہیں ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =