امریکی اقدامات نے کرونا وائرس کی روک تھام پر ایرانی منصوبوں کو چیلینج کا شکار کیا ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا ہے کہ انسانیت کیخلاف امریکی اقدامات نے کرونا وائرس کی روک تھام پر ایران کے منصوبوں کو چیلینج کا شکار کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کے روز غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے سربراہی آنلائن اجلاس کے موقع پر گفتگو گرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے انسانیت اور ایران کیخلاف امریکی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپنے ان اقدامات کے ذریعے ایران میں طبی ساز وسامان اور سہولیات کی فراہمی کو ناممکن بنادیا ہے جس کی وجہ سے کوویڈ- 19 کیخلاف ایرانی کوششوں اور منصوبوں پر بہت سارے نقصانات پہنچے گئے ہیں۔

ایرانی صدر نے عالمی ادارہ صحت کے کمروز بنانے کو کرونا وائرس کیخلاف عالمی جد و جہد کے کمروز بنانے کے مترداف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کیجانب سے عالمی ادارہ صحت کے فنڈ کو روک دینا، ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام اور امریکی حکومت کی بہت بڑی اسٹرٹیجک غلطی تھی۔

انہوں نے کرونا وائرس کے حتمی علاج اور کوویڈ- 19 کے ویکسن کی تیاری کیلئے تمام ملکوں سے تعاون پر آمادگی کا اظہار کردیا۔

 ایرانی صدر نے اس اجلاس کے انعقاد کیلئے اپنے آذری ہم منصب "الہام علی اف" کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی کوویڈ- 10 کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے غیر وابستہ ممالک کے تحریک کے سربراہوں کے تعاون کو بھی سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوویڈ- ۔19 سے نمٹنے کے عالمی تجربے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کس طرح ایک وبائی بیماری، قومیت یا نسل سے قطع نظر دنیا کے تمام ممالک کیلئے خطرہ بن سکتی ہے اور دنیا کے ہر فرد کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ 

ایرانی صدر نے کہا کہ یہ تمام ممالک کیلئے ایک سنگین انتباہ ہے کہ انسانوں کو ماحولیاتی گراوٹ، گلوبل وارمنگ اور کرونا وائرس جیسے بڑے قدرتی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ دوسرے ممالک کیخلاف دباؤ ڈالنے، دہشتگردی کے پھیلاؤ اور دوسرے ملکوں کی دہمکیاں دینے کے بجائے حقیقی اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کیلئے دوطرفہ، کثیرالجہتی اور بین الاقوامی تعاون کے راستے فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کوویڈ- 19 جیسی وبائی بیماری کے سامنے عالمی طاقتوں کی کمزوری جنہوں نے اپنے جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے بھرا کیا ہے؛ اگر دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ نہ ہو تو ان سے کم بھی نہیں ہے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بات کے پیش نظر، کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی دنوں میں دوسرے ملکوں سمیت عالمی ادارہ صحت سے تعاون کیا اور ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت کے قوانین کے مطابق کوویڈ- 19 کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایک قومی منصوبے کا تیار کیا۔

واضح رہے کہ غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے آنلائن اجلاس کا رکن ملکوں کے 40 سربراہوں کی شرکت سے انعقاد کیا کیا گیا ہے اور اس میں بعض بین الاقوامی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ، افریقی یونین اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ہے۔

منعقدہ اس اجلاس کے دوران، بعض بین الاقوامی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ، یورپی یونین اور آفریقی یونین کے عہدیداروں کے ویڈیو پیغامات چلائے گئے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے 18 ویں سربراہی اجلاس کا 26 اور 27 اکتبر 2019ء میں دارالحکومت باکو میں انعقاد کیا گیا جس میں رکن ممالک کے 120 سربراہوں نے حصہ لیا تھا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 7 =