اگر ایران کا کیس سلامتی کونسل میں جائے تو ہمارا ردعمل فیصلہ کن ہوگا: ترجمان خارجہ

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کا کیس سلامتی کونسل میں جائے اور اسلحے کی پابندیاں بڑھ جائے تو اس اقدام پر ہمارے ردعمل مناسب اور فیصلہ کن ہوگا۔

یہ بات "سید عباس موسوی" نے پیر کے روز نئی ایرانی سال میں اپنی پہلی پریس کانفرنس جو ہیلتھ پروٹوکول کی تعمیل میں منعقد ہوا تھا، میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی نظام اور مختلف ممالک کی صورتحال کی مبنی پر سفارت کاری جاری ہے اور بند نہیں کی جارہی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران میں صدر مملکت، وزیر خارجہ اور خارجہ پالیسی سے متعلقہ اور غیرمتعلقہ حکام اس سفارتکاری کو جاری رکھ رہے ہیں۔
موسوی نے کہا کہ ایرانی صدر ویڈئو کانفرنس کے طور پر مملکت آج بروز پیر باکو میں منعقدہ غیروابستہ ممالک کے سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں 46 صدور شریک ہیں اور کرونا وائرس پر تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے 22 علاقائی اور عالمی حکام کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی ہیں۔
انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کی سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس معاہدے کا رکن نہیں ہے اور اس نے ثابت کردیا کہ عالمی حقوق اور قوانین کا احترام نہیں کرکے اور اس قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان خارجہ نے ظریف کے دورے شام اور آستانہ میں ویڈئو کانفرنس کی نشست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آستانہ عمل جاری ہے اور اس کے تینوں ممبر ممالک کا ماننا ہے کہ آستانہ عمل ہی تمام ممالک اور ان لوگوں کے لئے واحد اختیار ہے جو خطے اور امن کی تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 3 =