امریکی جیل میں کرونا سے مبتلا ایرانی پروفیسر کا علاج کیا گیا

تہران، ارنا – نائب ایرانی وزیر سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ امریکی جیل میں گرفتار ایرانی پروفیسر "سیروس عسگری" کرونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے جس کا علاج کیا گیا اور ہمیں امید ہے کہ ان کو جلد از جلد رہائی مل جائے گی۔

یہ بات "حسین سالار آملی" نے پیر کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم نیویارک میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کی نمائندگی کی جانب سے اس پروفیسر کی رہائی کے لئے کوئی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی۔
سالار آملی نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ میں بعض ایرانی جامعات کے سربراہوں نے 250 عالمی یونیورسٹیوں کے سربراہوں کے نام ایرانی عوام اور دنیا کے خلاف امریکی ظالمانہ اقدامات پر خط لکھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں عسگری کی موجودہ صورتحال پر قابل اعتماد معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں وہ امریکی جیل میں واحد قیدی نہیں ہے اور دنیا کی ایلیٹ برادری کو اس اقدام کی مخالفت کرنی ہوگی۔
ایرانی وزیر سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی "منصور غلامی" نے اس سے پہلے اعلان کردیا کہ امریکہ اور کینیڈا میں متعدد ایرانی پروفیسروں پر الیکٹرانک کنگن سے نگرانی کی جارہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی شریف یونیورسٹی آف ٹکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سیروس عسگری جنہوں نے معدنیاتیات کے میدان میں کافی سائنسی کامیابیاں حاصل کی تھیں، کو امریکہ میں داخل ہونے کے موقع پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے بہانے سے گرفتار کیا گیا جہاں انہوں نے ڈاکٹریٹ مکمل کی تھی۔
وہ 10 مارچ سے امریکہ کے الکساندریا حراستی مرکز میں ہیں اور رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔
امریکی امیگریشن سروس نے اسے آپائی وطن اڑنے یا عارضی طور پر رہا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اور اس ادارے نے بھی عسگری کے حفاظتی ماسک کے استعمال کی مخالفت کی ، جبکہ اس پروفیسر کو سانس کی شدید پریشانی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 59 سالہ ایرانی سانئسدان جو نومبر 2019ء میں اوہائیو یونیورسٹی میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق کاروباری راز چوری کرنے کے الزام سے کلیئر قرار دیا گیا تھا، اب تک ویزہ منسوخی کی وجہ سے امریکی امیگریشن ادارے میں نظر بند ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 4 =