ایران میں کرونا وائرس کے دوران اسٹاک مارکیٹ کی رونقیں بڑھنے لگیں

تہران، ارنا- ایک ایسے وقت جب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا کے بہت سارے ملکوں کی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے تو اس وقت ایرانی اسٹاک ایکسچینج میں اسٹاک کی خرید و فروخت کا ریکارڈ عروج پر پہنچ گیا ہے اور اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 

اس وقت ایرانی اسٹاک ایکسچینج کمیشن کے زیراہتمام میں چار بڑے اسٹاک ایکسچینج کام کررہے ہیں۔

پہلا؛ تہران اسٹاک ایکسچینج جہاں کمپنیوں کے حصص اور دوسرے اسٹاک ایکسچینج جیسے شراکت داری سے متعلق کاغذات کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔

دوسرا؛ فرا اسٹاک ایکسچینج جہاں وہ کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کی جاتی ہے جو کسی وجوہات کی بنا پر تہران اسٹاک ایکسچینج میں درج نہ ہوگئی ہیں۔

تیسرا؛ ایران کموڈٹی ایکسچینج، جس میں ہر طرح کے سامان جیسے پیٹروکیمیکل مصنوعات، دھاتیں، زرعی مصنوعات اور سکے فیوچر معاہدے وغیرہ خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔

چوتھا؛ توانائی اسٹاک ایکسچینج جہاں بجلی پر مبنی توانائی کی مصنوعات کو ایک اہم ترین توانائی کیریئر کے طور پر خرید و فرخت کی جاتی ہے۔

ایرانی اسٹاک ایکسچینج نے اپنی سرگرمیوں کے آغاز سے ہی بہت سے اتار چڑھاو کا سامنا کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں ایرانی اسٹاک مارکیٹ نے بہت بڑی ترقی کی ہے اور بعض اوقات اس کی یومیہ شرح نمو نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

خاص طور پر پچھلے دو سالوں کے دوران؛ حکومت کی مدد اور کیپٹل مارکیٹ کی طرف توجہ دینے کی وجہ سے بینک ذخائر، رہائش اور سونے پر سرمایہ کاری کے بجائے اس سرمایہ کو اسٹاک مارکیٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت، اسٹاک مارکیٹ کی حمایت پر زور دیتی ہے اور چاہتی ہے کہ کپٹیل مارکیٹ کمپنیوں اور حکومت کیلئے فنانسنگ کا ایک بڑا اڈہ بن جائے اور ساتھ ہی لوگوں کیلئےسرمایہ کاری کی جگہ بن سکے۔

حالیہ دنوں کے دوران، لوگ ہر اسٹاک جو پہلی بار اسٹاک ایکسچینج میں پیش کیا جاتا ہے، کے خریدنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ 

اس وقت، ایرانی اسٹاک ایکسچینج ایک چھوٹی منڈی سے ایک بااثر مارکیٹ میں تبدیل ہوگئی ہے۔

سرمایہ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ جلد ہی ایران میں ایک طاقتور سیاسی اڈہ بن جائے گی جو سیاسی و اقتصادی معاملات کو بدل دے گی۔

کیونکہ افراط زر پر قابو پانے سمیت اس نے دیگر منڈیوں (جیسے رہائش، سونے اور زرمبادلہ) میں توازن لانے کا باعث بنی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی عروج پر پہنچ جائے گی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 10 =