جوہری معاہدے میں شراکت دار بننے پر امریکی جد و جہد کا کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے: ایرانی مندوب

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ امریکہ کیجانب سے جوہری معاہدے میں شراکت دار بننے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے کا کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

"کاظم غریب آبادی" نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے 8 مئی 2018 کو ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کی ہدایت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی شق نمبر 10 دراصل شق نمبر 2۔1 کی عکاسی کرتی ہے جس میں جوہری معاہدے کے ارکین کا نام لیا گیا ہے۔

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے علاوہ اس معاہدے میں شراکت دار بننے کا خاتمہ دے دیا اور جوہری معاہدے کے فریم ورک کے اندر منعقدہ کسی بھی اجلاسوں میں بھی حصہ نہیں لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، جوہری معاہدے میں بحثیت ایک شراکت دار کے تمام کیے گئے وعدوں کیخلاف ورزی کی اور ایران کیخلاف پابندیوں کے نفاذ اور دوسرے ملکوں کو ایران سے تجارتی لین دین کی دہمکی دینے کے ذریعے اس معاہدے کی تباہی کیلئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں کے دوران، اس بات کا دعوی کیا ہے کہ امریکہ قرارداد نمبر 2231 میں شرکت دار ہے اور اس کی شق نمبر 11 کے مطابق، اس نے ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے روس، چین اور بعض یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد 2231 کی غلط تشریح کی بنا پر ہے جو امریکہ نے 8 مئی 2018 کو اس میں شراکت دار بننے کا خاتمہ دیا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ "جوسپ بورل" نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ، ایران جوہری معاہدے کا شراکت دار نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد اس معاہدے کے فریم ورک کے اندر کسی بھی اجلاس میں حصہ نہیں لیا ہے لہذا واضح ہے کہ وہ ابھی اس معاہدے کا شرکت دار نہیں ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 0 =