امریکی جیل سے ایرانی سائنسدان کی جلد رہائی کی ضرورت

تہران، ارنا – ایرانی ہیومن رائٹس کی اعلی کونسل کے سیکرٹری نے امریکی جیل میں ایرانی سا‏ئنسدان'سیروس عسگری' کی تازہ ترین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں امریکی جیلوں میں قید تمام ایرانیوں کی صحت کے بارے میں تشویش ہے اور صرف ان کی جلد از جلد رہائی اس ایرانی پروفیسر کی صحت سے متعلق پریشانیوں کو ختم کر سکتی ہے۔

برٹش گارڈین میگزین نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکہ میں زیر حراست ایرانی سائنسدان "سیروس عسگری" نے کورونا وائرس سے دوچار ہے۔

ایرانی عدلیہ کے نائب برائے بین الاقوامی امور اور انسانی حقوق اور ہیومن رائٹس کی ہائی کونسل کے سیکرٹری'علی باقری کنی'  نے کہا ہے کہ ہمیں امریکی جیلوں میں قید تمام ایرانی شہریوں کی صحت  کے حوالے سے پریشان ہے اور دریں اثنا کرونا سے اس ایرانی پروفیسر کا شکار کی خبر سے ہماری پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے اور فی الحال اس پروفیسر کی جلد از جلد رہائی صرف ان پریشانیوں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی شریف یونیورسٹی آف ٹکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سیروس عسگری جنہوں نے معدنیاتیات کے میدان میں کافی سائنسی کامیابیاں حاصل کی تھیں، کو امریکہ میں داخل ہونے کے موقع پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے بہانے سے گرفتار کیا گیا جہاں انہوں نے ڈاکٹریٹ مکمل کی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 59 سالہ ایرانی سانئسدان جو نومبر 2019ء میں اوہائیو یونیورسٹی میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق کاروباری راز چوری کرنے کے الزام سے کلیئر قرار دیا گیا تھا، اب تک ویزہ منسوخی کی وجہ سے امریکی امیگریشن ادارے میں نظر بند ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =