حزب اللہ، لبنانی حکومت اور پارلیمنٹ کا باضابطہ اور جائز حصہ ہے: ایرانی ترجمان

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حزب اللہ، لبنانی حکومت اور پارلیمنٹ کا باضابطہ اور جائز حصہ ہے۔

موسوی: حزب‌الله بخش رسمی و مشروع دولت و مجلس لبنان است

یہ بات سید عباس موسوی نے آج بروز جمعہ حزب اللہ کے خلاف جرمنی کی حکومت کے اقدام کے ردعمل پر کہی۔

انہوں نے لبنانی حزب اللہ کے خلاف جرمنی کی حکومت کی کارروائی کو صیہونی حکومت اور امریکہ کے اہداف کے عین مطابق قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہحزب اللہ، لبنانی حکومت اور پارلیمنٹ کا باضابطہ اور جائز جزو ہے۔

موسوی نے کہا کہ جرمنی حکومت کی جانب سے "دہشت گردوں کے اوزاروں سے مسلح جدوجہد کو فروغ دیا' کے عنوان سے لبنانی حزب اللہ پر الزام کے اقدام کی شدید مذمت کی۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ بظاہر بعض یورپی ممالک مغربی ایشین خطے کی حقائق پر غور کیے بغیر اور صرف صیہونی پروپیگنڈا مشین اور امریکی حکومت کے اہداف کی بنا پر اپنے مواقف کا اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے جرمن حکومت کا فیصلہ لبنانی حکومت اور عوام کی مکمل بے عزتی کے ساتھ لیا گیا ہے، کیونکہ حزب اللہ لبنانی حکومت اور پارلیمنٹ کا ایک باضابطہ اور جائز حصہ ہے اور اس ملک کے سیاسی نظام کے استحکام میں ہمیشہ ایک بااثر سیاسی جماعت رہی ہے، جسے لبنانی عوام کی حمایت اور مقبولیت حاصل ہے۔

موسوی نے مزید کہاکہ جرمنی کی حکومت کا فیصلہ بھی ایک ایسی طاقت کے خلاف پوری لاپرواہی میں لیا گیا ہے جو خطے میں داعش کی پرتشدد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، لہذا جرمن حکومت کو خطے میں حقیقی دہشت گرد گروہوں سے لڑنے پر اپنے فیصلے کے منفی نتائج کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔

خیال رہے کہ اگرچہ دہشت گرد گروہوں کے عناصر جرمنی میں آسانی سے کام کرتے ہیں، جب کہ ایسا لگتا ہے اس اقدام کے پیچھے صہیونی ہے، جرمن وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کی تمام سرگرمیاں ممنوع ہیں اور حزب اللہ ایک "دہشت گرد تنظیم" ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =