کورونا کے باوجود افغانستان میں ایرانی برآمدات میں اضافہ

تہران، ارنا – ایران اور افغانستان کے مشترکہ چیمپر آف کامرس کے چیئرمین نے افغانستان کو ایران کی بڑھتی ہوئی برآمدات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم رواں سال افغانستان کو ایرانی برآمدات میں 300 ملین اضافے کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ بات حسین سلیم نے آج بروز بدھ ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے درمیان سرحد وہ واحد سرحد ہے جہاں سے سامان منتقل کیا جاسکتا ہے جبکہ ترکی اور عراق جیسی بہت سی دوسری سرحدیں اب بھی بند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات سست روی کا شکار ہے کیونکہ بارڈر پر سامان اور ڈرائیورز کورنا کے لحاظ سے چیک ہوتے ہیں تاہم پچھلے سال کے مقابلے میں افغانستان کو برآمدات کا حجم ‍زیادہ ہے۔

سلیمی نے کہا کہ ابھی اس ملک میں برآمدات کے لئے کوئی درست اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن ٹرکوں کی تعداد کے مطابق یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان کو برآمدات کا عمل گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن ابھی رقوم کی منتقلی کے لیے کچھ مسائل موجود ہے جو مرکزی بینک اس مسئلے کے ٹھیک کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو چین کی برآمدات اب کورونا کی وجہ سے معطل ہوگئی ہیں اور یہ ایران کے لئے افغانستان کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔

سلیمی نے کہا کہ ہمارا تخمینہ ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں افغانستان کو برآمدات تقریبا 30 ملین ڈالر زیادہ ہوں گی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha