ایران میں نوزائیدہ بچوں میں جگر کے بیماریوں اور یرقان کی ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری

تہران، ارنا- ایرانی انسٹی ٹیوٹ برائے کیمسٹری اور کیمیکل انجینئرنگ کے محققین نے پہلی بار نینو ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہوئے طبی تشخیصی کٹ ڈیزائن اور تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو خون کے ایک قطرہ سے 10 منٹ سے بھی کم وقت میں نوزائیدہ بچوں کے یرقان اور جگر کی بیماریوں کا پتہ لگا سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی محققین کیجانب سے تیار کردہ اس تشخیصی کٹ کو امریکی ایجادت ادارہ USPTO میں رجسٹر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس بین الاقوامی ایجاد جس کو 2020ء میں امریکی ادارہ ایجادات میں رجسٹرد کیا گیا ہے، USPTO، ایران کے کیمسٹری اینڈ کیمیکل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی کے ممبر سمیت نینو اور بائیوٹیکنالوجی ریسرچ گروپ کے ڈائریکٹر "حامد محمدی قانع" کی کاشوں کا نتیجہ ہے۔

اس منصوبے میں تجزیاتی کیمیا میں پی ایچ ڈی کی طالب علم "راضیہ طباطبایی" اور انسٹی ٹیوٹ آف کلین ٹیکنالوجیز کے ڈائریکٹر "حمید احمدی" نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے۔

اس کٹ کے استعمال میں آسانی اور ساتھ ہی سستی ہونے اور جدید ترین آلات کی عدم ضرورت کی وجہ سے اس کی  بہت بڑی مانگ ہے اور طبی تشخیصی لیبارٹریوں کے علاوہ گھروں میں بھی یرقان، ہیپاٹائٹس، اور جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha