امریکی پابندیاں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں: ایرانی صدر

تہران، ارنا – صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی پابندیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں دنیا کے تمام ممالک کرونا وائس سے مقابلہ کر رہے ہیں غیر قانونی مخالفت خطرناک ہوسکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "حسن روحانی" نے پیر کے روز اپنے انڈونیشیا کے ہم منصب "جوکو ویدودو" کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر انہوں نے رمضان المبارک مہینے کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی مبنی پر دونوں ممالک کے درمیان تجربات، سائنسی اور ٹیکنالوجی کارکردگیوں کے تبادلے اور ضروریات کو پورے کرنے کی ضرورت ہے۔
روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے سائنسی، ٹیکنالوجی، ضروریات کی تیاری بالخصوص تشخیصی کٹس، وینٹیلیٹرز ، سی ٹی اسکینز اور N 95 ماسک جیسے شعبوں میں اچھی پیشرفت کی ہے اسی لئے ہم انڈونیشیا کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیاں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں اور جہاں دنیا کے تمام ممالک کرونا وائس سے مقابلہ کر رہے ہیں غیر قانونی مخالفت خطرناک ہوسکتی ہے۔
انڈونیشیا کے صدر نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کرونا وائرس سے دنیا بھر میں سخت حالات پیدا کئے گئے لہذا تمام ممالک خصوصا اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔
دونوں ممالک کے صدور نے ایران اور انڈونیشیا کے درمیان تاریخی اور دوستانہ دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ 13ویں مشترکہ اجلاس کا انعقاد تہران اور جکارتہ کے درمیان معاہدوں کے جلد نفاذ کا باعث ہوگا۔
فریقین نے دونوں قوموں کے مفادات کی فراہمی کے لئے کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha