فرانس اور برطانیہ نے امریکی غنڈہ گری کا تسلیم کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایرانی "نور1" نامی فوجی سیٹلائٹ لانچنگ سے متعلق فرانس اور برطانیہ کے مواقف کا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ موقف، ان کی دہری پالیسی اور امریکی غنڈہ گری کو تسلیم کرنے کی وجہ ہے۔

 "سید عباس موسوی" نے ایرانی نور1 نامی فوجی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے پر فرانس اور برطانیہ کے مواقف کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پُرامن مقاصد کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال دفاعی پروگرام کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی سائنسی ترقی کا بھی ایک حصہ ہے اور کسی بھی بین الاقوامی معاہدوں میں ایران پر اس ٹیکنالوجی تک رسائی اور توسیع پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے جسے ایرانی ماہرین کی کوششوں کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے فرانس اور برطانیہ کیجانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2231 کی یکطرفہ تشریح کا سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے فتوی کے اور عالمی توانائی جوہری ادارے کی رپورٹز کے مطابق پرُامن مقاصد کے حصول کیلئے ہے لہذا؛ ایران کا خلائی پروگرام جو دفاعی اہداف رکھتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور مقاصد کے لئے نہیں بنایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت جب امریکہ، ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی اور ایران کیخلاف غیر قانونی پابندیاں عائد کرنے سے ہر وقت اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2231 کیخلاف ورزی کرتا رہتا ہے تو یورپی ممالک کیجانب سے امریکہ کے اس اقدمات کا مقابلہ نہ کرنا، حیرت کی بات ہے جس سے ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے دہرے رویہ اپناتے ہوئے عالمی سطح پر امریکی غنڈہ گری کا تسلیم کیا ہے۔

 موسوی نے کہا کہ فرانس اور برطانیہ، ایک ایسے وقت علاقے کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہیں جبکہ انہوں نے خود طویل عرصے سے علاقائی کشیدکی میں کردار ادا کیا ہے اور ان کی عدم استحکام پر مبنی پالیسیوں نے علاقے میں قیام امن اور استحکام برقرار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha