سائنس اور ٹیکنالوجی بالخصوص خلائی شعبے میں توسیع ایران کا قانونی حق ہے

تہران، ارنا-  ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سائنس اور ٹیکنالوجی بالخصوص خلائی شعبے میں ترقی اور توسیع کو ایران کا قانونی حق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "نور1" سیٹلائٹ لانچ کرنے کا کامیاب تجربہ، پُرامن مقاصد اور ایرانی دفاعی ڈپلومسی کےسلسلے میں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے ایرانی نور 1 نامی فوجی سیٹلائٹ لانچ کرنے کے کامیاب تجربے پر امریکی حکام کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کرتے ہوئے ایران کی اندرونی معاملات میں امریکی حکومت کی مداخلت کی مذمت کی۔

انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی کو ایران کا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مداخلتوں کا ترقی کی راہ میں ایرانی عزم پر کوئی اثرات مرتب نہیں کرے گا۔ 

موسوی نے کہا کہ کسی بھی قرارداد کے مطابق ایران کو خلا میں سیٹلائٹ لانچ کرنے پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے اور اس حوالے سے  قرارداد 2213 کی خلاف ورزی پر مبنی امریکی دعوی بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے خود ایران جوہری معاہدے کی علیحدگی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کیخلاف وزی کی ہے اور دوسرے ملکوں پر بھی اس قرارداد کی خلاف ورزی کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔

موسوی نے ایرانی سیٹلائٹ لانچ کرنے پر جرمنی کے موقف کا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جرمن وزارت خارجہ ایک ایسے وقت ایرانی انجینئروں کے ذریعے تعمیر کردہ سیٹلائٹ کی لانچنگ سے متعلق خدشات کا اظہار کرتا ہے جب جرمن وزیر دفاع نے جوہری بم رکھنے کے قابل لڑاکا خریدنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی دوہری پالیسیاں اپنانا؛ دنیا، علاقے اور یورپ کی سلامتی اور امن کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ بدھ میں سب سے پہلا فوجی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا؛ ایرانی نور1 نامی فوجی سیٹلائٹ زمینی سطح سے چار سو پچیس کلومیٹر اوپر مدار میں پہنچ چکا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha