ایرانی سیٹلائٹ لانچ کرنے سے قرارداد 2231 کیخلاف ورزی پر مبنی امریکی دعوی بے بنیاد ہے: روس

ماسکو، ارنا- روسی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ایران نے "نور1" فوجی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور اس حوالے سے امریکی دعوی بے بنیاد ہے۔

ان خیالات کا اظہار "ماریا زاخارووا" نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران ارنا نمائندے کے سوال کے جواب میں کیا۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کے حالیہ ایران مخالف بیانات سے متعلق کہا ہے کہ امریکہ نے بارہا اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 کی خلاف ورزی کرنے پر عالمی مذمت سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ ہے کہ اس نے ایران کیخلاف ایسا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

زاخارووا نے کہا کہ ہم اس امریکی حربے کو نظرانداز کرتے ہیں اور ہم سلامتی کونسل میں بھی ایسا اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اور جوہری معاہدے نے ایران کو خلائی سرگرمیوں اور خلا میں پُرامن موجودگی پر پابندی نہیں عائد کی ہے؛ جبکہ ایرانی خلائی میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت پر مبنی امریکی دعوی بھی بے بنیاد ہے۔

روسی ترجمان نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرے گا؛ لیکن امریکہ  اپنی جوہری صلاحیتوں کو ترقی دے رہا ہے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ بدھ میں سب سے پہلا فوجی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔

ایرانی نور1 نامی فوجی سیٹلائٹ زمینی سطح سے چار سو پچیس کلومیٹر اوپر مدار میں پہنچ چکا ہے۔

روسی ترجمان نے کہا کہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جوہری معائنہ کیا جاتا ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے باوجود ایرانی مراکز میں چوبیس گھنٹے معائنہ کرتے رہتے ہیں۔

زاخارووا نے کہا کہ ایران نے امریکی رکاوٹوں کے باوجود جوہری معاہدے پر بدستور قائم ہے۔

کرونا وائرس کے بحران کے دوران، ایران کیخلاف پابندیوں کا نفاذ انسانیت کیخلاف ہے

زاخارووا نے کرونا وائرس کی وجہ سے رونما ہونے والے انسانی بحران کے دوران، ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کے تسلسل سے متعلق کہا کہ ہم ایران مخالف امریکی پابندیوں کو غیر قانونی جانتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں ایران اور دیگر ممالک کیخلاف عائد پابندیاں غیر انسانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گروپ جی 20 کے حالیہ ویڈیو کانفرنس کے دوران، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پابندیوں اور تجارتی جنگوں سے پاک ایک گرین کوریڈور بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 زاخارووا نے کہا کہ روس نے بدستور یکطرفہ پابندیوں بشمول ایران مخالف امریکی پابندیوں کے غیر قانونی ہونے پر زور دیا ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ امریکہ کو کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہیں کرنی چاہیں۔

روسی ترجمان نے اس طرح کے غیر انسانی اقدامات کے اختتام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹرش نے بھی پابندیوں کی منسوخی اور کرونا کی روک تھام پر عالمی یکجہتی پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کے متعدد ممبران نے بھی یکطرفہ پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

زاخارووا نے اس بات پر زور دیا کہ ان پابندیوں نے انسانی حقوق کے دعوے دار امریکی جھوٹے روپ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha