خطے کے بحران کا انتظام علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہونا چاہئے: ایرانی صدر

تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ ہم خطے کے بحران کے انتظام کو علاقائی ممالک کے ہاتھ میں قرار دینے کے لئے ہرمز امن منصوبے اور کوئی دوسرے اقدام اٹھانے پر بھرپور تیار ہیں۔

یہ بات حسن روحانی" نے بدھ کے روز سلطنت عمان کے بادشاہ "ہیثم بن طارق" کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں علاقے کی نازک صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اس بیماری کو روکنے کے لئے تمام ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر زور دیا اور کہا کہ ہم اس سلسلے میں عمان کو اپنے تجربات کی منتقلی پر آمادہ ہیں۔
صدر روحانی نے کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ مل گئے ہیں لہذا عمان کو ایرانی گیس کی منتقلی اور چابہار بندرگاہ میں اس ملک کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کے نفاذ کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں قوموں کے مفاد میں ہیں۔
انہوں نے عمان کی ہرمز امن منصوبے کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم خطے کے بحران کے انتظام کو علاقائی ممالک کے ہاتھ میں قرار دینے کے لئے ہرمز امن منصوبے اور کوئی دوسرے اقدام اٹھانے پر بھرپور تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کے تحت آبنائے ہرمز میں ہمیشہ امن جاری ہے اور ہم نے حالیہ سالوں کے دوران خطے میں جنگ کے آغاز کو روکنے کے لئے بھرپور کوشش کی ہیں اور ہمیں یمن میں جنگ جو تباہی اور بھوکے کا باعث بن گیا ہے، کے خاتمے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیئے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج پڑوسیوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔
صدر روحانی نے سلطنت عمان کے بادشاہ کو رمضان المبارک مہینے کی آمد پر مبارکباد پیش کیا۔
بن طارق نے اسلامی جمہوریہ ایران اور عمان کے درمیان باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے علاقے سمیت آبنائے ہرمز میں امن قائم کرنے کے لئے ایران کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو خطے کو کسی بھی طرح کے جنگ اور پریشان کن واقعات سے دور رکھنے کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha