ایرانی صدر کا تہران اور ماسکو کے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ پر زور

تہران، ارنا- ایران اور روس کے صدور نے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، باہمی تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر "حسن روحانی" نے منگل کے روز اپنے روسی ہم منصب "ولادیمیر پیوٹن" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، دنیا کے بہت سارے ملکوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا باہمی تعاون سے قریب مستقبل میں اس مشکل صورتحال پر قابو پاسکیں گے۔ 

انہوں نے کوویڈ- 19 کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایران اور روس کے درمیان تعاون کے فروغ اور تجربات کے تبادلہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے حکام کو چاہیے کہ حفظان صحت کے اصولوں اور پروٹوکول پر عمل پیراہونے کے ساتھ ساتھ  باہمی تجارتی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کریں۔

صدر روحانی نے ایران مخالف امریکی ظالمانہ اور یکطرفہ پابندیوں سمیت واشنگٹن کیجانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی ایرانی درخواست کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت سارے ملکوں کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور اس مشکل صورتحال میں دوست ممالک کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہونا ہوگا۔

انہوں نے حالیہ سالوں کے دوران، دونوں ملکوں کے درمیان گہرے قریبی اور اسٹریٹجک تعلقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تمام شعبوں بشمول تجارتی، اقتصادی، سائنسی اور طبی میدان میں باہمی تعلقات کے فروغ  پر زور دیا۔

ایرانی صدر نے علاقے میں امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی مہم جویی کا حوالہ دیتے ہوئے خطی مسائل کے حل کیلئے ایران، روس اور ترکی کے درمیان آستانہ امن عمل فریم ورک کے اندر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

 ایران مخالف امریکی پابندیاں انسانیت کیخلاف جرم ہیں

در این اثنا روسی صدر نے دنیا کے اکثر ملکوں میں کوویڈ- 19 کے پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تہران اور ماسکو کے درمیان طے پانے ولے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ کیلئے باہمی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پیوٹین نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں اور ہم بدستور ان تعلقات میں اضافہ کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

روسی صدر نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو انسانیت کیخلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت بڑی افسوس کی بات ہے کہ مغربی ممالک میں صرف انسانی اصولوں کی بات ہوتی ہیں لیکن ان پر عمل پیرا کوئی نہیں ہوتا۔

انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بشمول ایران، روس اور ترکی کے درمیان آستانہ امن عمل کے فریم روک کے اندر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha